سعودی فرمانروا کرائسٹ چرچ حملے کے 200 متاثرین کی میزبانی کر یں گے

حج کے موقع پر جب میں مکہ میں ہوں گی تو میرے بھائی میری دعاؤں میں ہوں گے،متاثرہ بہن آیہ المعری

کرائسٹ چرچ : سعودی فرمانروا شاہ سلمان کرائسٹ چرچ حملے کے 200 متاثرین کی میزبانی کر رہے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیوزی لینڈ میں سعودی سفیر نے کرائسٹ چرچ مساجد پر دہشت گردی کے متاثرین کو حج پر روانہ کیا۔واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے میں 51 افراد ہلاک ہوئے تھے۔کرائسٹ چرچ سے متاثرہ حج پر روانہ ہونے ہونے والی آیہ العمری کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ میرے بھائی میرے ساتھ ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حج کے موقع پر جب میں مکہ میں ہوں گی تو میرے بھائی میری دعاؤں میں ہوں گے۔خیال رہے کہ کرائسٹ چرچ حملے میں آیہ العمری کے 35 سالہ بھائی شہید ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ شاہ سلمان کی جانب سے اس سفر کے اخراجات کا اٹھایا جانا ایک اعزاز کی بات ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے ویزا دستاویزات میں لکھا ہے کہ میں خادم حرمین شریفین کے مہمان کے طور پر سفر کر رہی ہیں۔
15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز النور مسجد اور لِین ووڈ میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔
مسجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا تھا۔بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ملزم پر قتل کے الزامات عائد کردیے گئے تھے۔اس کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی کابینہ نے اسلحہ قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے سخت قوانین کی منظوری بھی دے دی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 26 جولائی 2019

Share On Whatsapp