امریکا میں سولہ سال بعد سزائے موت پر پھر سے عملدرآمد ہوگا، اٹارنی جنرل

واشنگٹن : امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ 16 برس کے وقفے کے بعد امریکی حکومت سزائے موت پر عمل درآمد بحال کردے گی جس کے تحت قتل کے پانچ مجرموں کو دی گئی موت کی سزا پر آئندہ چند ماہ کے دوران عمل درآمد ہوگا۔محکمے کے ایک بیان کے مطابق، اٹارنی جنرل، ولیم بًر نے ’فیڈرل بیورو آف پرزنز‘ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سزائے موت کے ضابطوں کو آخری شکل دے جس کے بعد پانچ قیدیوں کی موت کی سزا پر عمل درآمد ہوگا۔
ان میں سے تین مجرمان کو دسمبر جب کہ دو کو جنوری 2020ء میں سخت ترین سزا دی جائے گی۔امریکہ میں سال 2003ء میں موت کی سزا پر آخری بار عمل درآمد کیا گیا تھا، جب خلیج کی جنگ کے سابق فوجی، لوئی جونز کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ مجرم نے ایک 19 برس کے فوجی کو اغوا کرکے قتل کیا تھا۔موت کی سزا سے متعلق اطلاعاتی مرکز کے مطابق، امریکہ میں وفاقی عدالتوں کی جانب سے 65 مجرمان کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔
امریکہ کی 50 میں سے نصف ریاستوں میں موت کی سزا کے قوانین موجود سال 1972 میں امریکہ میں سخت ترین سزا ختم کردی گئی تھی، بعد ازاں، 1988ء میں اسے جزوی طور پر بحال کیا گیا تھا، جب وفاقی حکومت نے تین قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا تھا۔ اس وقت امریکا کی 29 ریاستوں میں موت کی سزا کے قوانین موجود ہیں۔ گذشتہ سال، امریکہ میں 25 مجرمان کو سزائے سنائی گئی تھی۔ یورپ میں موت کی سزا ختم ہوچکی ہے، جہاں صرف بیلاروس وہ ملک ہے جہاں سخت ترین سزا کا تصور موجود ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 26 جولائی 2019

Share On Whatsapp