سعودی مملکت میں خواتین ٹیکسی ڈرائیور بھرتی ہونے لگیں

زیادہ تر خواتین ڈرائیورز کا تعلق دیگر ممالک سے ہے

ریاض : سعودی عرب میں خواتین کی جانب سے ٹیکسی ڈرائیونگ کے شعبے میں بھی قدم رکھ دیا گیا ہے۔ اس وقت بہت سی خواتین ٹیکسیاں چلا رہی ہیں تاہم یہ ٹیکسیاں صرف خواتین اور فیملی سروس کے لیے مخصوص ہیں، مرد حضرات ایسی ٹیکسی میں سوار نہیں ہو سکتے، جنہیں کوئی خاتون ڈرائیور چلا رہی ہو۔ سعودی محکمہ شماریات نے خواتین ڈرائیوروں کے حوالے سے جاری اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی ہٹنے کے بعد کے ایک سال کے عرصے کے دوران بیرون ملک سے 181 خواتین کو ڈرائیونگ کے ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان خواتین کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ڈرائیورز کے ویزہ پر سعودی مملکت آنے والی خواتین کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ اسی شعبے کو اختیار کریں۔ اُن کے آجر یا مالکان کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ خاتون ڈرائیورز سے صرف ڈرائیونگ ہی کروائیں گے۔ اُس سے گھر کے دُوسرے کام کاج نہیں کروائے جا سکتے۔ کیونکہ محکمہ پاسپورٹ (جوازات) کے مطابق کسی غیر مُلکی کو جس شعبے کے لیے ویزہ جاری کیا جاتا ہے، وہ اس کے علاوہ کسی اور شعبے میں کام نہیں کر سکتا۔
اس قانون پر سعودی شہریوں کی جانب سے اعتراض اُٹھایا گیا ہے۔ ایک سعودی عبداللہ کا کہنا تھا کہ اگر اُن کی گھریلو ملازمہ کو ڈرائیونگ آتی ہے تو پھر ڈرائیونگ کے لیے کوئی اور ملازمہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے، اُسی سے ڈرائیور کا کام کیوں نہیں لیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بیرونِ ملک سے خواتین ڈرائیورز کے لیے ویزوں کا اجراء نہیں کیا جاتا تھا، تاہم جب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت مِلی ہے، ویزہ قانون میں ترمیم کرتے ہوئے بیرونِ ملک سے خواتین ڈرائیورز منگوانے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 25 جولائی 2019

Share On Whatsapp