پاکستانی کارکنوں کی ایمانداری کے متحدہ عرب امارات میں چرچے ہونے لگے

دُبئی کے قونصل خانے میں ایک تقریب کے دوران دو پاکستانی نوجوانوں کو ایمانداری پر اعزاز سے نواز دیا گیا

دُبئی : متحدہ عرب امارات میں روزگار کی غرض سے مقیم دوپاکستانی افراد کو اُن کی ایمانداری پر خوب شاباش مِل رہی ہے اور اُن کے نام مقامی اخبارات کی زینت بھی بن چکے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص کا نام طاہر علی ہے۔ جو ServeU میں صفائی کارکن کے طور پر کام کرتا ہے۔ 27 سالہ طاہر علی کو السبخہ کے پارکنگ ایریا میں ایک بیگ مِلا جب اُس نے اس بیگ کو کھولا تو اُس میں پندرہ کلو گرام سونا پڑا ہوا تھا جس کی مقامی کرنسی میں مالیت 70 لاکھ درہم بنتی تھی۔
تاہم ایمانداری کے جذبے سے لبریز طاہر علی نے اُسی وقت ٹھان لی کہ وہ یہ بیگ اُس کے حقیقی مالک تک پہنچائے گا۔ طاہر علی نے فوری طور پر سیکیورٹی گارڈ کو اس لاوارث بیگ کے بارے میں بتایا ۔ پولیس کو اطلاع دی گئی تو اس بیگ کے اصل مالک کا پتا چلا کر اُس کی امانت اُسے لوٹا دی گئی۔ طاہر علی نے کہا کہ میرے والد نے مجھے ہمیشہ ایمانداری، سچائی، ہمدردی اور لوگوں کے کام آنے کا سبق دیا ہے۔
میں اُس چیز کو کبھی اپنے پاس نہیں رکھنا چاہوں گا جو میری ملکیت نہ ہو۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے اس اقدام نے میرے مُلک کا نام مزید روشن کیا ہے۔ مجھے میرے گھر والوں اور دوستوں کی جانب سے درجنوں مبارک باد کے پیغامات اور کالز موصول ہو چکی ہیں۔ طاہر علی سیالکوٹ کے ایک گاؤں چکری کا رہائشی ہے۔ طاہر علی کو اُس کے اس ایمانداری سے بھرے اقدام پر دُبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے تین ہزار درہم کا انعام دیا گیا ہے جبکہ اُس کے کمپنی مالک نے بھی اُس کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اُسے چار ہزار درہم کی رقم بطور انعام دی ہے۔
ایسی ہی ایمانداری کی ایک اور داستان خانیوال ضلع سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ پاکستانی نوجوان شفاقت خان نے رقم کی ہے۔ جس نے ایک یورپی فیملی کے گُم ہونے والے 21 ہزار ڈالر اُسے واپس کر دیئے۔ شفاقت خان 2018ء سے نیشنل ٹیکسی سروس میں ڈرائیور کے طور پر کام کر رہا ہے۔ شفاقت نے بتایا کہ جب اُس نے ایک یورپی فیملی کو ایک ہوٹل تک پہنچایا تو اُسے نہیں پتا تھا کہ یہ فیملی اپنا بیگ ٹیکسی میں ہی بھُول گئی ہے۔
بعد میں اُس نے رقم سے بھرا یہ بیگ دیکھا تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع کر دی۔ جس پر پولیس والوں نے اُس کی ایمانداری کے اعتراف میں اُسے ایک موبائل فون بطور انعام دیا۔ جبکہ مالک کی جانب سے بھی اُسے ایک ہزار درہم کا انعام دیا گیا۔ شفاقت نے کہا ”میں کبھی کوئی چیز چوری نہیں کروں گا کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دیا ہے۔“ یہ بات کہتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایک واضح مسکراہٹ دکھائی دے رہی تھی۔
پاکستانی قونصل جنرل احمد امجد علی نے ان دونوں پاکستانیوں کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جہاں اُنہیں اُن کی ایمانداری کے اعتراف میں تعریفی اسناد اور ٹرافیاں بھی دی گئیں۔ اس موقع پر قونصل جنرل نے کہا کہ یہ لوگ ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنے عمدہ کردار، ایمانداری اور بلند درجہ اخلاقی اقدار سے پاکستان کا نام مزید روشن کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں اس طرح کے اور کئی ہیروز موجود ہیں جن کے باعث ہمارے مُلک کی عزت و تکریم بڑھتی جا رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مزید پاکستانی بھی اس طرح کے نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیں گے ۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 25 جولائی 2019

Share On Whatsapp