عدالت نے محسن عباس حیدر کی عبوری ضمانت منظور کر لی

عدالت کی جانب سے پولیس کو محسن عباس حیدر کی گرفتاری سے روک دیا گیا

لاہور : : لاہور کی عدالت نے اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق اداکار و گلوکار محسن عباس حیدر آج عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران محسن عباس نے عدالت سے عبوری ضمانت کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کرلیا۔ ایڈیشنل سیشن جج تجمل شہزاد نے محسن عباس کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس حکام کو انہیں گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت نے تھانہ ڈیفنس سی پولیس سے معاملے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے جس کے بعد کیس کی مزید سماعت کو 5 اگست تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز محسن عباس کے خلاف تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں امانت میں خیانت، تشدد اورسنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئیں۔
درخواست کے متن میں کہا گیا کہ شادی کے بعد سے ہی محسن عباس کا سلوک اچھا نہیں تھا لیکن شادی بچانے کے لیے قربانی دیتی رہی ۔محسن عباس کے بار بار کہنے پر کاروبار کے لیے والد کوایک کروڑ روپے دینے کا کہا اور والد نے 50 لاکھ روپے دئیے ۔ پیسے ملنے کے بعد محسن عباس کا رویہ کچھ روز کے لئے ٹھیک ہو گیا ،بار بار پوچھنے کے باوجود محسن عباس نے رقم کے خرچ کے حوالے سے نہ بتایا اور دوبارہ تشدد شروع کر دیا ۔
محسن عباس نے کہا کہ والد سے مزید پچاس لاکھ روپے لے کر آؤں جس پر میں نے انکار کر دیا ۔ محسن عباس نے نازش جہانگیر خان نامی لڑکی سے ناجائز تعلقات استوار کر لیے اور اس کے اور بچے کے سامنے کئی بار نشے کی حالت میں اس عورت کو گھر لے آتا او رکمرے میں لے جاتا ۔17جولائی کو تنگ آ کر علیحدگی اور اپنی رقم کی واپسی کا تقاضہ کیا جس پر محسن نے ایک بار پھر تشدد شروع کر دیا ۔ سائلہ نے بتایا کہ میں نے جب اپنے بھائی محمد علی کو بلوایا تو میرے بھائی کے سامنے محسن عباس نے اپنے درواز سے پسٹل نکال کر لوڈ کر کے ہماری طرف تان لی اور دھمکی دی کہ تم دونوں نے رقم کا تقاضہ کیا تو دونوں کو جان سے مار دوں گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 24 جولائی 2019

Share On Whatsapp