زمبابوے کرکٹ بورڈ کی معطلی پر سکندر رضا سخت مایوس

, اب ہم اپنی کٹس جلا کر نوکریاں ڈھونڈنی شروع کردیں :آل رانڈر , 9 کھیل کے ساتھ لگارکھنے والے سینکڑوں کرکٹرز، سپورٹ سٹاف اور گرانڈز میں کام کرنے والے دیگر افراد بے روزگار ہوگئے، آئی سی سی کے فیصلے نے دل توڑدیئے،برینڈن ٹیلر

ہراری : پاکستانی نژاد زمبابوین کرکٹر سکندر رضا کا کہنا ہے کہ ایک فیصلے کی وجہ سے ٹیم عالمی کرکٹ میں اجنبی بن کر رہ گئی اور کرکٹرز بے روزگار ہوگئے ہیں۔کرکٹ بورڈ کے معاملات میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے زمبابوے کی معطلی کے بعد کرکٹرز مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گئے اور ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے۔سیالکوٹ سے آبائی تعلق رکھنے والی33سالہ زمبابوین آل رانڈر سکندر رضا کا کہنا ہے کہ ایک فیصلے کی وجہ سے ٹیم عالمی کرکٹ میں اجنبی بن کر رہ گئی اور کرکٹرز بے روزگار ہوگئے ہیں۔
سکندر رضا نے کہا کہ ایک فیصلہ کس طرح کھلاڑیوں کے کیریئر تباہ اور اتنے زیادہ خاندانوں کو متاثر کر سکتا ہے،اب کیا ہم اپنی کرکٹ کٹس جلا کر نوکریاں ڈھونڈنی شروع کردیں ، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اپنے کیریئر کو اس انداز میں خیرباد کہنا پڑے گا۔دوسری جانب سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز برینڈن ٹیلر نے کہا کہ کھیل کے ساتھ لگارکھنے والے سینکڑوں کرکٹرز، سپورٹ سٹاف اور گرانڈز میں کام کرنے والے دیگر افراد بے روزگار ہوگئے، آئی سی سی کے فیصلے نے دل توڑدیئے ۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میٹنگ میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے زمبابوے کرکٹ کو فوری طور پر معطل کردیا گیا، بورڈ نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر آرٹیکل 2.4 کی خلاف ورزی پر کیا جوکھیل میں سیاسی مداخلت سے متعلق ہے۔معطلی کے بعد آئی سی سی کی جانب سے زمبابوے کی فنڈنگ منجمد کردی جائے گی،اس کی کسی بھی نمائندہ ٹیم کو آئی سی سی کے ایونٹس میں حصہ لیے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔کونسل نے حکم دیا کہ زمبابوے کرکٹ کے منتخب آفیشلز کو 3 ماہ کے اندر بحال کیا جائے، اس معاملے کا مزید جائزہ اکتوبر کی بورڈ میٹنگ میں لیا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 19 جولائی 2019

Share On Whatsapp