Christian Family Refuses To Pay Income Taxes Because It “Goes Against God’s Will”

مسیحی خاندان نے ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا۔یہ خدا کی مرضی کے خلاف جاتا ہے

آسٹریلیا میں دو  مسیحی مشنریوں نے آسٹریلین ٹیکسیشن آفس کو   2 ملین آسٹریلیوی ڈالر ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے ٹیکس کے قوانین خدائے بزرگ و برتر کے قوانین سے متصادم ہیں۔
فینی الیڈا بیئریپوٹ اور اُن کے بھائی ریمبرٹس کورنیلس بیئریپوٹ  کو سپریم کورٹ آف تسمانیہ کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ان دونوں نے 2017 میں 9 لاکھ 30 ڈالر ٹیکس ادا نہیں کیا تھا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ دونوں کو دو مختلف مواقع پر ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹس دئیے گئے لیکن دونوں ہی ٹیکس ادا کرنے میں ناکام رہے۔
اپنے دفاع میں دونوں بہن بھائیوں نے موقف اپنایا کہ آسٹریلیا میں خدا کے قوانین ہی بالادست ہیں۔ انہوں نے دولت مشترکہ کا کچھ نہیں دینا،کیونکہ  وہ خدا سے تعلق رکھتے ہیں۔
مس بیئریپوٹ  نے بتایا کہ وہ خدا سے ملنے والی رحمتوں پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ہم اسے ہی دیں گے، ہم کسی بیرونی ادارے جیسے ٹیکس آفس کو کچھ نہیں دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے  پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ ہم اس کے ہیں۔ اپنا الحاق خدا سے توڑ کر دولت مشترکہ سےجوڑنے کا مطلب خدا سے بغاوت اور پہلے حکم کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم خدا کو رد کریں گے تو ہم پر بڑی لعنت ہوگی، اگر ہم خدا کی طرف واپس جائیں تو وہاں  علاج ہے۔
ریمبرٹس کونیلس بیئریپوٹ نے جج کو بتایا  کہ 2011 تک وہ اور اُن کی بہن ٹیکس دیتے تھےلیکن اُن کے روحانی تعلقات زیادہ گہرے ہوئے تو  انہیں اندازہ ہوا کہ ٹیکس دینا خدا کی مرضی کے خلاف ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ دولت مشترکہ خدا کے تابع ہے، اس کا مطلب ہے کہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی پابندی کرنا خدا کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
اُن کے دلائل سن کر جج نے کہا کہ  دونوں بہن بھائیوں کا ٹیکس نہ دینے کا فیصلہ کسی بے ایمانی  کا نتیجہ نہیں لگتا  بلکہ لگتا ہے کہ دونوں نے اپنی مذہبی تعلیمات کے زیر اثر یہ فیصلہ ایمانداری سے کیا ہے۔ جج نے کہا کہ  جب تک  دونوں بہن بھائی بائبل میں  ”اور تم ٹیکس ادا نہ کرو“ لکھا ہوا نہیں دکھاتے، وہ مجرم رہیں گے۔
عدالت نے دونوں بہن بھائیوں کو 1.159 ملین آسٹریلیوی ڈالر اور 1.166 ملین آسٹریلیوی  ٹیکس ، جرمانہ اور انتظامی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 18 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں