ہوشیار خبردار!فیس ایپ سے دور رہیے،یہ روسی جاسوس ایپلی کیشن ہے

آپ کے فیس کی مدد سے آپ کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے،امریکی تحقیقی رپورٹ

لاہور ۔ :   آئے روز کوئی نہ کوئی چیلنج سوشل میڈیا پر دکھائی دیتا ہے جس پر پوری دنیا سے عوام اس قدر ٹوٹ پڑتے ہیں کہ چوبیس گھنٹے اسی کے خبط میں مبتلا نظر آتے ہیں۔آئس بکٹ چیلنج سے لے کر کی کی چیلنج تک اور دس سالہ آنے والی تبدیلی تصویرکے چیلنج سے لے کر اب فیس ایپ چیلنج تک کتنے ٹرینڈ سوشل میڈیا پر سامنے آئے اور عوام نے ہر ایک چیلنج میں دلچسپی ظاہر کی۔
سوشل میڈیا کے ٹرینڈز میں عام لوگوں کے علاوہ سیاسی اور فنکار شخصیات بھی مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں۔جس کی دیکھا دیکھی سبھی لوگ اس گنگا میںنہانے آ جاتے ہیں۔حالانکہ کئی بار ہمیں ایسے آرٹیکل اور مضامین بھی پڑھنے کو ملتے ہیں کہ اپنے موبائل ڈیوائس میں کسی قسم کی نئی ایپلی کیشن انسٹال نہ کریں بلکہ ضرورت سے ہٹ کر بھی کوئی ایپلی کیشن انسٹال نہ کی جائے کیونکہ اس سے آپ کی انفارمیشن لیک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اب یہی بات سامنے آئی ہے فیس ایپ ایپلی کیشن کے حوالے سے۔فیس ایپ گزشتہ چند دنوںمیں سامنے آئی اور آناً فاناً سب کی فیورٹ بن گئی۔ہر کسی نے بڑھاپے کا فلٹر اپنے فیس پر آزمانا شروع کر دیا اور مزے سے اس کو شیئر کرنے لگا۔دنیا کے سبھی ممالک میں فیس ایپ ایپلی کیشن کو پذیرائی ملی یہاں تک کہ برطانوی شاہی خاندان کے شہزادے اور شہزادیاں بھی فیس ایپ کے شکار ہو گئے۔
تاہم امریکی حکام نے تشویش کی گھنٹی بجا دی ہے ۔ان کی تحقیق کے مطابق فیس ایپ نامی ایپلی کیشن کے پیچھے روسی سائبر ایکٹوسٹ ہیں جو آپ کا ڈیٹا محفوظ کر رہے ہیں۔چونکہ اس ایپ کے ذریعے آپ کے فیوچر کافیس بھی آ جاتا ہے اور موجودہ بھی تو اس کی مدد سے وہ آپ کے فیس کے امپریشن اپنے پاس سیو کر رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ آپ کی ڈیوائس اور انٹرنیٹ پر موجود اہم ڈیٹا بھی چوری کیا جا رہا ہے۔
لہٰذ ا امریکی حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ کوئی بھی شخص فیس ایپ ایپلی کیشن استعمال نہ کرے۔جبکہ روس کی طرف سے امریکہ کے اس الزام کی تردید کی گئی ہے کہ اس قسم کی کوئی بات نہیں بلکہ یہ امریکہ کی روس کے خلاف سازش ہے کیونکہ وہا ب روس کو دیکھتا ہی شک کی نگاہ سے ہے وگرنہ فیس ایپ نامی ایپلی کیشن میں نہ تو ایسی کوئی بات ہے اور نہ ہی روس ایسا کوئی خفیہ جاسوسی کاکام کر رہا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 19 جولائی 2019

Share On Whatsapp