خبردار !جعلی انوائس بنانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی

اسمگلنگ کے ذریعے آنے والے سامان پر پاکستان کوسالانہ اربوں کا نقصان ہوتا ہے،شبر زیدی

لاہور ۔ :   اسمگلنگ ایسی لعنت ہے کہ کسی بھی ملک کی معیشت کو تباہ کر ڈالتی ہے۔اسمگلنگ کے ذریعے آنے والی چیزوں پر آپ کو کسٹم کلیئرنس نہیں دینا پڑتا یوں وہ آپ کوسستی پڑتی ہے مگر گورنمنٹ کو مہنگی پڑتی ہے۔ٹیکس کلیکشن کم ہونے کے ساتھ اشیا کی رسد بھی بڑھ جاتی ہے۔ہمارے ملک میں بھی افغانستان،ایران اور کراچی کے بارڈر اور بندگاہوں سے کئی چیزیں اسمگل ہو کر آتی ہیں۔
موجودہ حکومت نے متعلقہ اداروں خاص طور پر ایف بی آر کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ اس اسمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔اسمگلنگ کے ذریعے آنے والی اشیا کی جعلی انوائس بھی مقامی تاجر بنوا لیتے تھے جس وجہ سے وہ پکڑے جانے سے بچ جاتے تھے مگر اب چیئرمین ایف بی آر نے جعلی انوائس بنانے والوں کو بھی خبردار کر دیاہے۔ایف بی آرنے انڈر انوائسنگ اور درآمدی اشیا کے غلط اعداد و شمار دینے والے تاجروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری بیان میں تاجر برادری کو انڈر انوائسنگ اور درآمدی اشیا کے غلط اعداد و شمار دینے کے حوالے سے تنبیہ کی گئی ہے۔بورڈ کے بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین شبر زیدی نے تاجروں کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسمگلنگ اشیا کی تجارت سے باز رہیں اور درآمدی اشیا کی انڈر انوائسنگ اور غلط اعداد و شمار دینے سے بھی گریز کیا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ جو بھی درآمد کنندہ، ان کے کلیئرنگ ایجنٹ اور کوتاہی برتنے والا عملہ اس عمل میں ملوث پایا گیا ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان کو اسمگلنگ اشیا کی نقل و تجارت کی بدولت شدید معاشی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس سے مقامی صنعت اور سرمایہ کاری کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کرنے کی ہدایات کی ہیں، جس کے بعد پاکستان کسٹمز نے انفورسمنٹ ایکشنز کو مزید تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بورڈ کے تمام اراکین اور ڈی جیز کو ادارے میں غیر یقینی کے خاتمے کے لیے خط لکھ دیا۔شبر زیدی نے خط میں کہا کہ ہر مالی سال کے آغاز پر ایف بی آر میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے کیے جاتے ہیں لیکن ادارے میں روایت کو معمول نہیں بنایا جاسکتا۔انہوں نے تمام افسران پر زور دیا کہ وہ محاصل کی وصولی پر توجہ دیں، ٹیکس نیٹ میں اضافے کی کوشش کریں اور اپنی حدود میں کاروباری سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 19 جولائی 2019

Share On Whatsapp