غیر اعلانیہ سنسر شپ کے ذریعے پہلی پابندی عمران خان پہ لگائی گئی تھی، سینئیر صحافی کا انکشاف

عمران خان 2003میں پہلی بار عافیہ صدیقی کا کیس سامنے لے کر آئے تھے جس پر ہمیں کہا گیا کہ عمران خان آپ کے شو میں نظر نہ آئے، حامد میر کا انکشاف

اسلام آباد : سینئیر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ غیر اعلانیہ سنسر شپ کے ذریعے پہلی پابندی عمران خان پہ لگائی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان 2003میں پہلی بار عافیہ صدیقی کا کیس سامنے لے کر آئے تھے جس پر ہمیں کہا گیا کہ عمران خان آپ کے شو میں نظر نہ آئے۔ حامد میر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ ”عافیہ صدیقی ایک المیہ ہے اس المیے کو دنیا کے سامنے سب سے پہلے عمران خان 2003 میں لیکر آئے تھے اور پھر ہمیں کہا گیا کہ عمران خان آپکے شو میں نظر نہ آئے یہ غیر علانیہ سنسر شپ سے ہمارا پہلا تعارف تھا آج خان صاحب وزیراعظم ہیں امید ہے وہ عافیہ کو رہائی دلائیں گے۔
“ حامد میر نے اس سے پہلے اپنے کالم میں بتایا تھا کہ عافیہ صدیقی کی آواز سب سے پہلے عمران خان نے اٹھائی تھی جب انہوں نے 2003میں ہمارے پروگرام میں بتایا کہ کراچی سے ایک عورت کو اسکے 3بچوں سمیت اٹھا لیا گیا ہے اور اس میں ادارے ملوث ہیں۔ سینئیر صحافی نے بتایا کہ اس پروگرام کے بعد اسٹیبلشمنٹ ہمارے خلاف ہو گئی تھی لیکن تب کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے غیض و غضب سے بچا لیا۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں کئی سیاسی رہنماؤں کے ٹی وی چینل پر آنے پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ گزشتہ دنوں سابق صدر آصف علی زرداری کا پروگرام عین اس وقت روک دیا گیا تھا جب وہ ٹی وی پر نشر کیا جا رہا تھا۔ا س کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا انٹر ویو بھی ایک چینل پر 11منٹ چلنے کے بعد روک دیا گیا تھا۔ اب سینئیر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ غیر اعلانیہ سنسر شپ کے ذریعے پہلی پابندی عمران خان پہ لگائی گئی تھی اور یہ پابندی تب لگی تھی جو وہ پہلی بار عافیہ صدیقی کا کیس سامنے لے کر آئے تھے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 18 جولائی 2019

Share On Whatsapp