فائنل میں انگلینڈ کو 1 اضافی رن دیے جانے کا معاملہ، کیا انگلش ٹیم سے ورلڈکپ واپس لیا جا سکتا ہے؟

آئی سی سی قوانین کے تحت میچ میں ہوئی غلطی پر بحث کرکے قوانین میں تبدیلی کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم میچ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوگا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_art_pic' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
لندن : فائنل میں انگلینڈ کو 1 اضافی رن دیے جانے کا معاملہ، کیا انگلش ٹیم سے ورلڈکپ واپس لیا جا سکتا ہے؟ آئی سی سی قوانین کے تحت میچ میں ہوئی غلطی پر بحث کرکے قوانین میں تبدیلی کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم میچ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کو ہونے والے آئی سی سی ورلڈکپ کے تاریخی فائنل کے بعد بحث جاری ہے کہ انگلینڈ کو ناجائز طریقے سے جتوایا گیا۔
ایمپائر کی غلطی کی وجہ سے انگلینڈ کو ایک رن اضافی دیا گیا، جو بعد ازاں انگلش ٹیم کی فتح اور نیوزی لینڈ کی شکست کا باعث بنا۔ اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ چونکہ فائنل میں ایمپائر کی جانب سے کی گئی سنگین غلطی کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تو لہذا کیا انگلش ٹیم سے ورلڈکپ واپس لے کر نیوزی لینڈ کو چیمپئن قرار دیا جا سکتا ہے؟ تو اس کے جواب میں کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے۔
آئی سی سی قوانین کے تحت میچ میں ہوئی غلطی پر بحث کرکے قوانین میں تبدیلی کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم میچ کا نتیجہ تبدیل نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ سابق انٹرنیشنل اور آئی سی سی کی تاریخ کے سب سے بہترین ایمپائر سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ کے فائنل میں انگلینڈ کو غلط طور پر ایک اضافی رن دیا گیا اور یوں غلط طور پر انگلش ٹیم چیمپئن بنی۔
نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے فائنل میچ کے آخری اوور میں نیوزی لینڈ کے فیلڈر کی تھرو بیٹسمین بین اسٹوکس سے ٹکرا کر باؤنڈری لائن کراس کر گئی تھی جبکہ اس دوران اسٹوکس اپنا دوسرا رن مکمل کرنے کے لیے بھاگ رہے تھے۔

اس پر فیلڈ امپائر دھرماسینا نے انگلش ٹیم کو 6 رنز دیئے جو کہ انگلیںڈ کی فتح کا بنیادی سبب بنے۔ سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ فیلڈ امپائر نے یہاں پر انگلینڈ کو چھ رنز دے کر واضح غلطی کی حالانکہ یہاں پانچ رنز ملنے چاہیے تھے کیونکہ جب گیند پھینکی کی گئی تو بیٹسمین نے ابھی اپنا دوسرا رنز مکمل نہیں کیا تھا۔
جبکہ جب تھرو پھینکی گئی تو دونوں بلے بازوں کی کراسنگ بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس غلطی کی وجہ سے ہی بین اسٹوکس کو اسٹرائیک ملی۔ سائمن ٹافل نے ایم سی سی کے قوانین کی کتاب کے قانون 19.8 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک واضح غلطی ہے اور یہی غلطی نیوزی لینڈ کی شکست کا باعث بنی۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے سائمن ٹافل کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے بہترین امپائرز میں ہوتا ہے۔
سائمن ٹافل نے 2004 سے 2008 کے دوران لگاتار 5 سال تک آئی سی سی امپائر آف دی ائیر کا ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ سائمن ٹافل کی اس رائے اور اعتراض کے بعد سے سنجیدہ نوعیت کی بحث چھڑ چکی ہے۔ کئی کرکٹ ماہرین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ آئی سی سی کو ورلڈکپ فائنل کے نتیجے کی تبدیلی پر غور کرنا چاہیے۔ انگلینڈ کی فتح ناجائز ہے، حقیقی عالمی چیمپئن نیوزی لینڈ ہے۔ آئی سی سی کو سنجیدگی سے اس معاملے پر غور و فکر کے بعد نیوزی لینڈ کو عالمی چیمپئن قرار دے دینا چاہیئے۔

تاریخ اشاعت : منگل 16 جولائی 2019

Share On Whatsapp