سستے ترین ہوائی سفر کیلئے مشہور ملائیشین ائیرلائن ملنڈو کا پاکستان کیلئے پروازیں شروع کرنے کا اعلان

ملائیشین ائیرلائن پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ملائیشیا کے درمیان پروازیں چلائے گی، پروازوں کا آغاز 18 جولائی سے کیا جائے گا

لاہور : سستے ترین ہوائی سفر کیلئے مشہور ملائیشین ائیرلائن ملنڈو کا پاکستان کیلئے پروازیں شروع کرنے کا اعلان، ملائیشین ائیرلائن پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے ملائیشیا کے درمیان پروازیں چلائے گی، پروازوں کا آغاز 18 جولائی سے کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ملائیشیا کی مشہور اور نجی ائیرلائن ملینڈو ائیر کی جانب سے پاکستان کیلئے دوبارہ سے پروازوں کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث ملنڈو ائیر کی پروازیں بھی بند تھیں، تاہم اب ملائیشین فضائی کمپنی نے دوبارہ سے پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملنڈو ائیر لاہور اور ملائیشیا کے درمیان پروازیں چلاتی ہے۔ ملنڈو ائیر سستے فضائی سفر کی فراہمی کیلئے مشہور ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستانی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے کھول دی گئی ہیں جس کا باقاعدہ نوٹم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اب بھارت سمیت تمام ممالک کی ائیر لائنز پاکستانی حدود استعمال کر سکیں گی، پاک بھارت کشیدگی کے باعث مشرقی فضائی حدود 27 فروری سے بند تھی۔ پاکستانی فضائی حدود میں ٹرانزٹ اور اوور فلائی کی پابندی تھی، پابندی ختم ہونے سے بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود استعمال کر سکیں گے۔ لاہور سے دہلی، بنکاک، کوالالمپور، سری لنکا، ارمچی کی پروازیں بھی بحال ہو جائیں گی۔
سول ایوی ایشن کی ویب سائٹ پر ائیرمین کے لیے جاری کردہ نوٹم میں کہا گیا کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش ختم کردی گئی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا ہے۔ جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اس فیصلے کی تصدیق کر دی ہے۔ یاد رہے کہ رواں ماہ ہی پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش کی مدت میں مزید اضافہ کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے سول ایو ی ایشن اتھارٹی نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی فضائی حدود میں ٹرانزٹ اور اوور فلائی پر 12 جولائی تک پابندی عائد تھی۔
تاہم اب پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی کی مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کیا گیا۔پاکستان نے بھارت پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں 26 جولائی تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں 14 فروری کو ایک کار خود کش دھماکے میں 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے جس کا الزام بھارت نے براہ راست پاکستان پر عائد کیا تھا۔
پلوامہ واقعے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور 26 فروری کی رات بھارتی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی جس پر پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی پر بھارتی طیارے بالاکوٹ کے قریب نصب ہتھیار پھینکتے ہوئے بھاگ نکلے تھے۔ جس کے بعد بدھ کی صبح 27 فروری کو پاک فضائیہ نے بھارت کو سرپرائز دیتے ہوئے بھارت کے دو طیارے مار گرائے جبکہ ایک بھارتی پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پاک فوج نے ابھی نندن کو مشتعل ہجوم سے بچایا اور حراست میں لے لیا تھا۔ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد سے بھارتی میڈیا میں یہ چرچا تھا کہ پاکستان اب پائلٹ کی رہائی کے لیے بھارت کے سامنے شرائط رکھے گا ، بھارتی حکومت نے مؤقف دیا کہ ہم کسی قسم کی شرائط ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن 28 فروری کو جمعرات کے روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ہم بھارتی پائلٹ کو امن کے فروغ کے لیے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے کو نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی خوب سراہا گیا تھا۔ جس کے بعد یکم مارچ کو بھارتی پائلٹ کو واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس سب کے باوجود بھی بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور جارحیت سے باز نہ آیا۔ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر ہی بھارت کے لیے پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی جس سے بھارت کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا تاہم اب پاکستان نے تمام پابندی ختم کر دی ہے جس کے تحت اب بھارت سمیت تمام ممالک کی ائیر لائنز پاکستانی حدود استعمال کر سکیں گی۔

تاریخ اشاعت : منگل 16 جولائی 2019

Share On Whatsapp