حدیبیہ بھی بےنامی ہے، اس کو بھی سیل کریں گے، علی زیدی

تمام بے نامی پراپرٹیزضبط کی جائیں گی، زلزلے کی امدادی رقم سے جائیدادیں خریدی گئیں، اپوزیشن کو این آراو نہیں ملے گا۔ وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی ریس کانفرنس

اسلام آباد : وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی نے کہا ہے کہ حدیبیہ بھی بےنامی ہے، اس کو بھی سیل کریں گے، تمام بے نامی پراپرٹیزضبط کی جائیں گی، زلزلے کی امدادی رقم سے جائیدادیں خریدی گئیں، اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا۔ وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی نے معاون خصوصی شہزاد اکبر اوروفاقی وزیر حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کرکے ملک کا پیسہ باہر بھیجا گیا۔
آج کے حالات کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ اور ملک کو لوٹا جانا ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ عزیربلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس کوآصف زرداری نے استعمال کیا۔ سمٹ بینک بھی بےنامی تھا۔ سمٹ بینک کےشیئرز کو بھی سیل کیا گیا ہے۔ عارف حبیب اوراٹلس بینک کو ضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا۔ کراچی کے بڑے بروکر نے روپالی بینک خریدا۔ ناصر لوتھا نے بیان حلفی دیا ہے کہ بینک ان کا نہیں ہے۔
ایک صاحب نے16 پراپرٹیز پلی بارگین میں نیب کو دی ہیں۔ بے نامی پراپرٹیز ضبط کی جائیں گی۔ عوام کو بےنامی جائیدادوں سے متعلق ہرروز آگاہ کیا جائےگا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی اخبارمیں آیا کہ متاثرین کی امداد کا پیسہ بھی کھایا گیا۔ 10 سال تک وزیراعلیٰ رہنے والے نے زلزلہ زدگان کے پیسے کھائے۔ زلزلے کی امدادی رقم سے جائیدادیں خریدی گئیں۔
اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے۔ اربوں روپے کی بے نامی جائیدادوں کو پکڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کو این آر او نہیں ملے گا۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کیے گئے ہیں۔ کمپنیوں میں شوگرملزاور سیمنٹ فیکٹریاں بھی شامل ہیں۔ آصف زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے۔
بے نامی جائیدادوں کی کوئی چیز نہ پیش کر سکے توبیچ کررقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائیگی۔ اومنی گروپ، آصف زرداری کیخلاف جےآئی ٹی کی تفتیش پر کئی جائیدادیں اٹیچ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے پوش علاقوں میں بھی بے نامی پلاٹ سامنے آئے ہیں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ان لوگوں نے چھوٹے سے مقدمے کیلئے سابق اٹارنی جنرل کولندن بلا لیا ہے۔ وہیں سے جلدی سے گورا وکیل کرلیں۔ حسن، حسین ، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری مجرم ڈکلیئر ہوچکے ہیں۔ حسن، حسین ، سلیمان شہباز اور علی عمران واپس نہ آئے تو جائیدادیں ضبط ہوسکتی ہیں۔ ان افراد نے کچھ جرائم برطانیہ کی سرزمین پر بھی کیے ہیں۔

تاریخ اشاعت : منگل 16 جولائی 2019

Share On Whatsapp