One Of The World’s Most Colorful Places Is In Taiwan

اس دنیا کا سب سے رنگین گاؤں تائیوان میں ہے

چینی خانہ جنگی کے دوران  کومنتانگ : کے  قوم پرست چینی کمیونسٹ پارٹی کےخلاف لڑے۔ 1949 میں ماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی تو کے ایم ٹی کے اراکین چین سے تائیوان فرار ہو گئے۔تائیوان میں انہیں فوج پر انحصار کرنے والے گاؤں میں قیام کرنا پڑا۔شروع میں تو ان کا قیام عارضی تھا لیکن بعد میں وہ یہاں کے مستقل رہائشی بن گئے۔
ایسا ہی ایک گاؤں  تائیوان کےضلع تائچونگ میں بھی تھا۔

ہوانگ یونگ-فو اس گاؤں کے اصل رہائشی ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پراپرٹی ڈویلپرز نے گاؤں سے رہائشیوں سے اُن کے گھر خریدنے شروع کر دئیے اور یہاں کے رہائشی دوسری جگہوں پر منتقل ہونے لگے۔تقریباً 11 سال پہلے حکومت نے اس گاؤں کو گرانے کی دھمکی دی۔ لیکن ہوانگ یونگ-فو اپنے گھر کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ 86 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا پینٹ برش پکڑا اور اپنے گھر کو پینٹ  کرنا شروع کر دیا۔
جلد ہی انہوں نے ہمسایوں کے گھروں اور گلیوں پر بھی پینٹنگ  شروع کر دی۔ انہوں نے گاؤں میں کنکریٹ  کے ہر سینٹی میٹر پر پینٹنگ کی۔چند دنوں بعد ہی اس رنگین گاؤں کے قصے پھیلنے لگے تو لوگ اسے دیکھنے کےلیے دور دور سے آنے لگے۔جلد ہی اس گاؤں کی شہرت میں  اتنا اضافہ ہوا کہ یہ سیاحوں کے لیے سب سے زیادہ دلکش مقام بن گیا۔
آج اس گاؤں کے ہر انچ پر چیتوں، پانڈا، مور، بلیوں، تیرے خلابازوں، ناچتے سمورائی اور بہت سی دلچسپ چیزوں کی ڈرائنگز بنی ہوئی  ہیں۔
اس گاؤں میں اتنی زیادہ پینٹنگ کی گئی ہے کہ اس گاؤں کو اب رینبو فیملی ویلج (Rainbow Family Village) کا نام دیا گیا ہے جبکہ ہوانگ یونگ-فو اب  دی رینبو گرینڈ پا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
ہوانگ یونگ-فو کی  ہزاروں پینٹنگ کے باعث حکومت نے اس گاؤں کو گرانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ گاؤں کو  نہ گرانے کی ایک بڑی یہ بھی ہے کہ اب ہر سال ایک ملین سے زیادہ سیاح اس گاؤں میں  اس کی رنگینی کو دیکھنے آتے ہیں۔

تاریخ اشاعت : اتوار 14 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں