The Russian Village Entirely Populated By Tightrope Walkers

اس روسی گاؤں کی ساری آبادی تنی ہوئی رسی پر چل سکتی ہے


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

روس کے جنوب میں جمہوریہ  داغستان میں  کوہ قاف کے پہاڑی سلسلے میں دنیا سے الگ تھلک ایک گاؤں ایسا بھی ہے، جہاں کے  تمام رہائشی تنی ہوئی رسی پر چل سکتےہیں۔
ٹسوکرا-1 میں تنی ہوئی رسی پر چلنے کی روایت 100 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس گاؤں کے کم از کم 17 افراد، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں،سابق سوویت یونین میں سرکس میں  تنی ہوئی رسی پر چلنے کے لیے کافی مقبول ہوئے تھے۔


اس گاؤں کی آبادی 400 نفوس پر مشتمل ہے۔ اس گاؤں کے بچے بھی  سکولوں میں تنی ہوئی رسی پر چلنے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ اس گاؤں کے  جوان اور بوڑھے ہر موسم میں تنی ہوئی رسی پر چلنے کی مشق کرتےہیں۔
روایت ہے کہ اس گاؤں میں  رسی پر چلنے کا آغاز رومانوی مہم سے شروع ہوا۔ گاؤں کے جوان قریبی آبادی میں خواتین سے ملنے کے لیے کئی دن تک  پیدل چل کر جاتے تھے۔
پیدل چلنے کی مشقت سے بچنے کےلیے انہوں نے شارٹ کٹ کے طور پر وادی کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رسی  پر چل کر جانا شروع کردیا۔ جلد ہی رسی پر چلنا مردانگی کی علامت سمجھا جانے لگا۔
گاؤں میں رہنے والے کچھ لوگوں کو اس روایت  کے سچ ہونے پر شبہات ہیں۔ ایک مقامی شخص کا کہنا ہے کہ سخت سردی اور مشکل موسم میں علاقے کےپل ٹوٹ جاتے تھے۔اس لیے لوگوں نے پلوں کی مرمت کا انتظار کرنے کی بجائے رسی پر چلنا شروع کر دیا۔

کچھ بھی ہے رسی پر چلنے کی روایت کا آغاز 19 ویں صدی کے شروع میں ہوا۔ گاؤں کے لوگ اپنی اس صلاحیت کی بنا پر اسی طرح قریبی گاؤں میں خریداری کے لیے جانے لگے۔
اس گاؤں میں خوشحالی کے دن تب آئے جب دوسری جنگ عظیم کے کچھ عرصے بعد سویت یونین میں سرکس مقبول ہونے لگے۔ اس گاؤں کے بہترین فنکاروں نے  سرکس میں بھرتی ہوکر دولت اور شہرت کمائی۔
آج اس گاؤں میں تنی ہوئی رسی پر چلنے کی روایت دم توڑتی جا رہی ہے۔
سیاسی عدم استحکام اور غریت کے باعث جوان افراد علاقہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ علاقےکے نوجوانوں کو تنی ہوئی رسی پر چلنے کی تربیت دینے کے لیے پہلے کی سی سہولیات اور فنڈز کی عدم دستیابی بھی اہم مسئلہ ہے۔اس کے باوجود بھی  مقامی رہائشیوں کو اپنی تنی ہوئی رسی پر چلنے کی صلاحیت پر فخر ہے۔


تاریخ اشاعت : اتوار 14 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں