قادر بخش اور اس کی معصو م بہن کے قتل کیس میں ایس ایس پی سمیت دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کرکے شامل تفتیش کیاجائے‘حلیم عادل شیخ

حیدرآباد : پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اگر زینب کے قاتل کو سرے عام پھانسی دی جاتی تو سانحہ حیدرآباد جیسے واقعات نہیں ہوتے، حیدرآباد میں پہلے بھی معصوم بچے زاہد کو قتل کیا گیا لیکن ملزمان گرفتار نہیں ہوئے، قادر بخش اور اس کی معصو م بہن کے قتل کیس میں ایس ایس پی سمیت دونوں تھانوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کرکے شامل تفتیش کیاجائے‘ ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیاجائے۔
و ہ حیدرآباد کے علاقے جی او آر کالونی میں گذشتہ روزاغوا کے بعد قتل ہونے والے بچوں قادر بخش اور رخسانہ کے گھر ان کے والد انتظار سیال سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی حیدرآباد کے سینئر رہنما جمشید علی شیخ اور پارٹی کے کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے انتظار سیال کو پی ٹی آئی کی جانب سے انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
انتظار حسین نے بتایا کہ8جولائی کودس سالہ قادر بخش اور اس کی چھوٹی بہن سات سالہ رخسانہ گھر سے چیز لینے کے لئے نکلے تھے کہ واپس نہیں آئے، بیٹا زخمی حالت میں ملا جس کو چاقوؤں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا گیا تھا، میں فریادکرتا رہا میرے بچے کو بچالو مگر پولیس نے کوئی توجہ نہیں دی، قادر بخش نے زخمی حالت میں بتایا کہ عثمان بنگالی بہن کو لے گیا ہے جس کی بروقت اطلاع پولیس کو دی لیکن پولیس بچی کو تلاش کرنے میں ناکام رہی جبکہ بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا اور دو روز بعد بیٹی کی نعش بھی ملی جس کو زیادتی کے بعد وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا تھا۔
اس موقع پرحلیم عادل شیخ نے کہاکہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بچی 8جولائی کو اغوا ہوئی اور کیس 10جولائی کو درج ہوا، دونوں بچے پولیس کی غفلت سے جان سے گئے۔ انہوںنے کہاکہ اس سارے واقعے کے اصل ذمہ دار خود ایس ایس پی حیدرآباد سرفراز نواز شیخ ہیں، اگر دو تھانوں میں حدود کا تنازعہ تھا تو ایس ایس پی تو نوٹس لے سکتے تھے۔ انہوںنے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیاکہ فوری طو رپر ایس ایس پی کو معطل کیاجائے۔
انہوںنے کہاکہ آج دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن سندھ میں تھانوں کی حدود پر پولیس اٹکی ہوئی ہے، سندھ حکومت کا اربوں کا بجٹ ہے لیکن کسی اسپتال میں بلڈ بینک نہیں ہے، بچے قادر بخش کو فوری طبی امداد دی جاتی تو وہ جانبر ہوسکتا تھا۔ انہوںنے کہاکہ حد تو یہ ہے کہ12گھنٹے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا اسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں انہوںنے کہاکہ مکمل انصاف کی فراہمی تک تحریک انصاف بچوں کے ورثاء کے ساتھ کھڑی ہے انہوںنے مطالبہ کیا کہ ایس ایس پی ‘ دونوں ایس ایچ اوز کو معطل کرکے شامل تفتیش کیاجائے اور ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیاجائے ۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp