تحریک انصاف کا ایک اور متنازعہ فیصلہ سامنے آ گیا

اپنے غریب ڈرائیور کے جسم کے مخصوص مقام میں سریا داخل کرنے والے شخص کو انسانی حقوق کا فوکل پرسن مقرر کر دیا

اسلام آباد : تبدیلی کی دعوے دار تحریک انصاف کی جانب سے ایک ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر عوام کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے تحریک انصاف کے رہنما میر افتخار احمد خان لُنڈ کو صوبہ سندھ میں انسانی حقوق سے متعلق معاملات کا فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے۔ یہ وہی میر افتخار احمد خان ہیں جن کے بارے کچھ عرصہ قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے غریب ڈرائیور کو معمولی سی بات پر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اُس کے جسم کی پچھلی جانب لوہے کی ایک راڈ داخل کر دی تھی جس کے باعث یہ ڈرائیور شدید زخمی ہو گیا تھا۔
افتخار احمد لُنڈ کی اس عہدے پر تقرری کا نوٹیفکیشن وزارت انسانی حقوق کی جانب سے 10 جُولائی 2019ء کو جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ افتخار احمد لُنڈ انسانی حقوق سے متعلق یہ ذمہ داری رضاکارانہ طور پر انجام دیں گے۔ اس خبر پر عوام کی جانب سے شدید غم و غصّے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے میر افتخار احمد خان لُنڈ کا نام رواں سال اپریل کے مہینے میں اس وقت سامنے آیا تھا جب اُن پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے ڈرائیور اللہ رکھیو کو معمولی سی بات پر اپنے تین رشتہ داروں کے ساتھ مل کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
متاثرہ ڈرائیور کے بیٹے زاہد حُسین رکھیو نے بتایا تھا کہ اُس کے والد کا شفیق لُنڈ نامی ایک شخص سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ جس پر میر افتخار لُنڈ نے اُسے اپنی رہائش گاہ پر بُلایا جہاں شفیق، رفیق اور ممتاز نے میر افتخار کی موجودگی میں اُس پر شدید تشدد کیا اور اُس کے ساتھ شرمناک حرکت کی۔ اُسے بعد میں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُس کے جسم کے پچھلی جانب مخصوص مقام پر آٹھ سے زیادہ ٹانکے لگے۔
ہسپتال میں درد سے کراہتے ہوئے ڈرائیور کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد میر افتخار خاں لُنڈ، ممتاز، شفیق اور رفیق کے خلاف خان پور مہر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس نے اس معاملے میں کسی بھی نامزد ملزم کو گرفتار نہیں کیا تھا اور سارے معاملے پر مٹی ڈال دی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp