جج ارشد ملک کا بیان حلفی آل شریف کیخلاف چارج شیٹ ہے،فردوس عاشق

وہ چارج شیٹ جوہمیں سسیلین مافیا اورگاڈ فادر کا اصل مطلب سمجھاتی ہے، یہ شرمناک اقدام ملکی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں،عابد باکسراورناصربٹ جیسے اجرتی قاتل استعمال کرتے ہیں۔ وفاقی معاون خصوصی اطلاعات کا ٹویٹ

لاہور : وفاقی معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک کا بیان حلفی آل شریف کیخلاف چارج شیٹ ہے، وہ چارج شیٹ جو ہمیں سسیلین مافیا اورگاڈ فادر کا اصل مطلب سمجھاتی ہے، یہ شرمناک اقدام ملکی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں، عابد باکسراورناصربٹ جیسے اجرتی قاتل استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ آج جج ارشد ملک نے محض بیان حلفی نہیں بلکہ آل شریف کے خلاف وہ چارج شیٹ پیش کی جو ہمیں سسیلین مافیا اورگاڈ فادر کا اصل مطلب سمجھاتی ہے۔
یہ بیان حلفی ثبوت ہے کہ یہ نہ تو معصوم ہیں اورنہ ہی مظلوم۔ فردوس عاشق نے کہا کہ جسٹس قیوم کی ٹیپ ہو یا جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت پر لیگی بلوائیوں کا حملہ۔ رفیق تارڑ کا بریف کیس ہو یا دیواریں پھلانگ کرسپریم کورٹ پر حملہ۔ یہ شرمناک اقدام ملکی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ن لیگ وہ جماعت ہے جس کے لیڈر اقتدار میں ہوں تو مخالفوں کے گلے پکڑتے ہیں اور مشکل میں ہوں تو انہی کے پاؤں پڑ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میاں شریف صاحب کی مالی حیثیت پر بھی خاندان میں اتفاق نہیں۔ شہباز کا ابا غریب اور نواز کا ابا امیر۔ ان کی تاریخ، فراڈ، کرپشن، رشوت اور بلیک میلنگ سے عبارت ہے۔ اور جہاں یہ منفی ہتھکنڈے کامیاب نہ ہوں تو عابد باکسر اور ناصر بٹ جیسے اجرتی قاتل استعمال کرتے ہیں۔ واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا کہ انہیں کہا گیا نوازشریف منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں، کہا گیا کسی بھی ملک میں رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، ناصرجنجوعہ اور مہرجیلانی نے کہا انہیں (ن) لیگ کی با اثر شخصیت کی سفارشات پر جج لگایا۔
بیان حلفی میں دئیے گئے بیان میں پیشکش پر ارشد ملک نے کہا کہ وہ 6 مرلے کے گھر میں رہتے ہیں،آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ دوران سماعت دونوں شخصیات نے رابطہ کیا اور ناصر جنجوعہ نے 20 ملین یورو رشوت کی پیشکش کی، جس پر انہوں (ارشد ملک) نے کہا وہ اپنے حلف سے غداری نہیں کریں گے، رشوت کی پیشکش ٹھکرانے پر ناصر بٹ نے دھمکیاں دیں، ناصربٹ نے کہا نوازشریف کے مجھ پر بہت احسان ہیں، نوازشریف نے مجھے قتل کے 5 مقدمات میں بچایا، نوازشریف کیلئے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔
جج ارشد ملک نے کہا کہ ناصربٹ نے ان کی ملتان کی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ویڈیو دکھا کرکہا گیا نوازشریف کی تسلی کیلئے بیان ریکارڈ کراؤ، جس پر بیان ریکارڈ کرنے سے انکار کیا، انہیں بار بار یہ جملے دہرانے پر مجبور کیا کہ فیصلہ دباؤ پر دیا۔ انہوں نے یہ جملے دھرانے سے انکار کردیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل پر دائر پٹیشن سماعت کیلئے مقرر کر لی ہے ۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی 3 رکنی بنچ 16جولائی کوکیس کی سماعت کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اشتیاق احمد مرزا ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل پردرخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری سے عدلیہ کی آزادی اور وقار پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جائے گا۔ ایسا لگتا ہے ویڈیو لیک ہونے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھایا گیا۔
معاملے میں ملوث افراد کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ جج ارشد ملک خود مریم نواز کے الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ جج ارشد ملک کو رشوت کی آفر کرنا ایک سنجیدہ الزام ہے۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں الزامات توہین عدالت ہیں۔ پٹیشن میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ خود اس سارے معاملے کی انکوائری کرے۔ عدالت میں انکوائری سے سچ سامنے لایا جائے۔
جس پر عدالت نے پٹیشن سماعت کیلئے مقرر کردی اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی 3 رکنی بنچ 16جولائی کوکیس کی سماعت کرے گا۔ درخواست میں وفاقی حکومت، شہبازشریف، مریم صفدر، شاہدخاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق کوبھی فریق بنایا گیا ہے۔ اسی طرح درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اورپیمرا کوبھی فریق بنایا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp