وزیراعظم کی زیر صدارت بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس

, وزیراعظم کی چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کو کاروبار بارے وفاقی و صوبائی قوانین کو ہم آہنگ ،مربوط بنانے کا عمل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت , سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو ہر ممکنہ سہولت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ملکی آبادی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد،ارزاں ورک فورس کی دستیابی اور لبرل حکومتی پالیسی سرمایہ کاری کیلئے نہایت موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں جس سے بھرپور استفادہ کیا جا نا چاہئے، عمران خان کا اجلاس سے خطاب

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کو کاروبار کے حوالے سے وفاقی و صوبائی قوانین کو ہم آہنگ اور مربوط بنانے کا عمل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو ہر ممکنہ سہولت کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، وفاقی وصوبائی سطح پر مختلف قوانین، کاروبار کیلئے غیر ضروری قواعد و ضوابط، سرکاری محکموں کی جانب سے کاروباری طبقے کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی روش اور کرپشن نے کاروباری طبقوں کیلئے مسائل پیداکئے جس سے صنعتی ترقی جمود کاشکار ہوئی،ملکی آبادی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد،ارزاں ورک فورس کی دستیابی اور لبرل حکومتی پالیسی سرمایہ کاری کیلئے نہایت موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں جس سے بھرپور استفادہ کیا جا نا چاہئے۔
جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ زبیر گیلانی، ڈاکٹر سلمان شاہ، ڈاکٹر شمشاد اختر، احمر بلال صوفی و دیگر نے شرکت کی ۔اجلاس میں مختلف شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروبار کی راہ میں درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے، اسپیشل اکنامک زونز کے قیام، صنعت و حرفت سے وابستہ افراد کو سہولیات بہم پہنچانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر کاروباری برادری کے لئے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اس ضمن میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا ۔
اجلاس میں چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے سرمایہ کاری کے حوالے سے مرتب کی جانیوالی نئی سٹرٹیجی برائے 2020-2024کا پہلاتجویز کردہ مسودہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا گیا، بورڈ اراکین کی تجاویز کے مطابق مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے کاروبار سے متعلق وفاقی اور صوبائی سطح پرموجود مختلف قوانین کو ہم آہنگ و یکجا کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سپیشل اقتصادی زونز کے حوالے سے بھی قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ان کو کاروبار دوست بنایا جاسکے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ کو کاروبار کے حوالے سے وفاقی و صوبائی قوانین کو ہم آہنگ اور مربوط بنانے کا عمل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں متعلقہ قوانین کو صوبوں کے اشتراک سے مزید آسان بنایا جائے گا تاکہ غیر ضروری شرائط کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور انکو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اورصوبائی سطح پر مختلف قوانین، کاروبار کے لئے غیر ضروری قوائد و ضوابط، سرکاری محکموں کی جانب سے کاروباری طبقے کے لئے مشکلات پیدا کرنے کی روش اور کرپشن نے کاروباری طبقوں کے لئے مسائل پیداکیے جس کی وجہ سے صنعتی ترقی جمود کاشکار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی آبادی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد،ارزاں ورک فورس کی دستیابی اور لبرل حکومتی پالیسی سرمایہ کاری کے لئے نہایت موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں جس سے بھرپور استفادہ کیا جا نا چاہئے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp