آئی جی پنجاب کا جینڈر بیسڈ جرائم کی روک تھام کیلئے صوبے کے دس اضلاع میں سپیشل یونٹس کے قیام کی فزیبیلٹی رپورٹ تیارکرنے کا حکم

, تمام اضلاع میں--’’ جینڈر فوکل پرسن‘‘ تعینات کئے جائیں جو باقاعدگی سے جینڈر کرائم کی رپورٹ روزانہ سنٹرل پولیس آفس بھجوائیں۔ آئی جی پنجاب

لاہور۔12 جولائی : انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ صوبے میں جینڈر بیسڈ کرائم کے واقعات کی روک تھام کیلئے خواتین پولیس اہلکاروں پر مشتمل سپیشل یونٹس کے قیام کی فزیبلیٹی رپورٹ تیار کی جائے جو خواتین کے ساتھ زیادتی ، تیزاب گردی ، غیرت کے نام پر قتل سمیت دیگر جرائم کی صورت میں نہ صرف متاثرہ خواتین کو بروقت امداد مہیا کریں گے بلکہ جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سخت سے سخت سزا کو یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جینڈر بیسڈ کرائم کے کیسز میں متاثرہ خواتین کی راہنمائی کیلئے سائیکالوجسٹ ، لیگل اور میڈیکل ایڈ کی فراہمی کو بھی مد نظر رکھا جائے اور ابتدائی طور پر صوبے کے جینڈر کرائم ہٹ ٹاپ ٹین اضلاع بشمول لاہور، گوجرانوالہ ، راولپنڈی، فیصل آباد ، ملتان ، رحیم یار خان ، ساہیوال ، مظفرگڑھ، شیخوپورہ اور گجرات میں ان یونٹس کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں جینڈر بیسڈ کرائم کی شرح دیگر اضلاع کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں--’’ جینڈر فوکل پرسن‘‘ کو تعیناتی کا عمل فی الفور مکمل کیا جائے جو اپنے اضلاع کے تھانوں سے روزانہ کی بنیاد پرجینڈر کرائم کے حوالے سے رپورٹس لے کر سنٹرل پولیس آفس بھجوائیں تاکہ ایسے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائیوںکو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سنٹرل پولیس آفس میں جینڈر کرائم سے متعلق اجلاس کی صدارت کے دوران افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا ۔
اجلاس کے دوران اے آئی جی جینڈر کرائم ماریہ محمود نے آئی جی پنجاب کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جینڈر کرائم پر قابو پانے کیلئے ابتدائی طور پر جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں سپیشل یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے جینڈر بیسڈ کرائم کے واقعات میں پولیس کو بروقت کاروائی کرنے میں خاصی کامیابی حاصل ہو رہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جینڈر کرائم یونٹ کی انچارج لیڈی سب انسپکٹر ہیں جبکہ ایک یونٹ میںجینڈر فوکل پرسن کے علاوہ ایک مرداے ایس آئی ، ایک لیڈی ہیڈ کانسٹیبل اور 5لیڈی کانسٹیبلز شامل ہیں جو صرف جینڈر بیسڈ کرائم کے واقعات کو ڈیل کرتے ہیں اسی ماڈل کی طرز پر جینڈر کرائم کے حوالے سے صوبے کے تمام حساس اضلا ع میںجینڈر کرائم یونٹس کو فعال کیا جائے گا جہاںجینڈر کرائم کی شرح دیگر اضلاع سے زیادہ ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جینڈر کرائم کے حوالے سے متاثرہ خواتین پانچ مختلف ذرائع فرنٹ ڈیسک، 8787آئی جی پی کمپلینٹ سنٹر، خدمت مراکز، 15ہیلپ لائن اور جینڈر کرائم سیل میں براہ راست رپورٹ درج کراسکیں گی جبکہ متاثرین کی راہنمائی کیلئے یہ یونٹس دارالامان سمیت دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ کلوز کوارڈی نیشن رکھیں گے تاکہ کیس کی نوعیت کے اعتبار سے متاثرہ خواتین کی مدد کی جاسکے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں لاہور، بہاولپور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں دارالامان کو اپ گریڈ کرنے کے حوالے اقدامات کئے جارہے ہیں جبکہ سوشل ویلفیئر ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو، وائولینس اگینسٹ وومن سنٹر ، ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر اسٹیک ہولڈر ز کے ساتھ مشاورت جاری ہے ۔آئی جی پنجاب نے افسران کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ تمام اضلا ع میں سی پی اوز اورڈی پی او زکی مشاورت کے بعد اضلاع کے ان پولیس اسٹیشنز میں جینڈر بیسڈ یونٹس کا قیام عمل میںلایاجائے جہاں ایسے جرائم کی شرح بقیہ علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ جینڈر ریسپانسو پولیسنگ انیشئیٹو(Gender Responsive Policing Initiative)پنجاب پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے لہذا اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل کوبروئے کار لاکر اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے ۔اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز انعام غنی ، ڈی آئی جی کرائم اینڈانویسٹی گیشن جواداحمد ڈوگر، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرسید خرم علی، ڈی آئی جی آئی اے بی احسن یونس اور اے آئی جی جینڈر کرائم ماریہ محمود سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے ۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp