جج ارشد ملک کودھمکانےوالا ناصرجنجوعہ مڈجیک کنسٹرکشن کمپنی کا مالک نکلا

جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں ناصر جنجوعہ کا بھی ذکر کیا، ناصر جنجوعہ ن لیگی رہنماء اورجج ارشد ملک کو عدالت میں لگوانے کا دعویدار بھی ہے

لاہور : احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کودھمکیاں دینے والا ناصر جنجوعہ مڈ جیک کنسٹرکشن کمپنی کا مالک نکلا، جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں ناصر جنجوعہ کا بھی ذکر کیا، ناصر جنجوعہ جج ارشد ملک کو عدالت میں لگوانے کا دعویدار بھی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نجی ٹی وی نے ناصر جنجوعہ کا سراغ لگا لیا۔ بتایا گیا ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کودھمکیاں دینے والا ناصر جنجوعہ مڈ جیک کنسٹرکشن کمپنی کا مالک ہے۔
ناصر جنجوعہ نے جج ارشد ملک کو عدالت میں تعینات کروانے کی دھمکی بھی دی۔ناصر بٹ کی طرح ناصر جنجوعہ کا تعلق بھی ن لیگ سے ہے۔ دونوں پارٹی رہنماء سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے چاہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا کہ انہیں کہا گیا نوازشریف منہ مانگی قیمت دینے کو تیار ہیں، کہا گیا کسی بھی ملک میں رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، ناصرجنجوعہ اور مہرجیلانی نے کہا انہیں (ن) لیگ کی با اثر شخصیت کی سفارشات پر جج لگایا۔
بیان حلفی میں دئیے گئے بیان میں پیشکش پر ارشد ملک نے کہا کہ وہ 6 مرلے کے گھر میں رہتے ہیں،آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ دوران سماعت دونوں شخصیات نے رابطہ کیا اور ناصر جنجوعہ نے 20 ملین یورو رشوت کی پیشکش کی، جس پر انہوں (ارشد ملک) نے کہا وہ اپنے حلف سے غداری نہیں کریں گے، رشوت کی پیشکش ٹھکرانے پر ناصر بٹ نے دھمکیاں دیں، ناصربٹ نے کہا نوازشریف کے مجھ پر بہت احسان ہیں، نوازشریف نے مجھے قتل کے 5 مقدمات میں بچایا، نوازشریف کیلئے کسی بھی حد تک جاؤں گا۔
جج ارشد ملک نے کہا کہ ناصربٹ نے ان کی ملتان کی ویڈیو دکھاکر بلیک میل کرنے کی کوشش کی، ویڈیو دکھا کرکہا گیا نوازشریف کی تسلی کیلئے بیان ریکارڈ کراؤ، جس پر بیان ریکارڈ کرنے سے انکار کیا، انہیں بار بار یہ جملے دٴْہرانے پر مجبور کیا کہ فیصلہ دباؤ پر دیا، انہوں نے یہ جملے دھرانے سے انکار کردیا۔جج کے بیان حلفی کے مطابق ناصرجنجوعہ نے ان مرضی کے بغیر ان کی آڈیو ریکارڈ کرکے نوازشریف کو سنائی، ناصربٹ نے کہا نوازشریف اس آڈیو سے مطمئن نہیں، ناصربٹ نے کہا آپ (ارشد ملک) کو نوازشریف سے ملنا ہوگا، 6 اپریل 2019 کو جاتی عمرہ میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی، ناصربٹ نے نوازشریف کی موجودگی میں کہا فیصلہ دباؤ میں دیا۔
ارشد ملک کے مطابق انہوں نے نوازشریف کے منہ پر کہا میں نے میرٹ پر فیصلہ دیا، نوازشریف نے ان کی بات پر ناگواری کا اظہار کیا، ان کے بیان کے بعد نوازشریف سے ملاقات ختم ہوگئی، ناصربٹ نے کہا فیصلہ سنا توچکے اب نوازشریف کیلئے کچھ کرنا ہوگا، ناصربٹ نے بلیک میل کرکے آڈیو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی، ناصربٹ نے کہا نوازشریف کے سامنے میری مرضی کا بیان نہیں دیا اب ایک اور کام کرو، نوازشریف کی اپیل کا جائزہ لو اور اپنی تجاویز دو۔
بیان حلفی میں جج نے بتایا کہ ناصربٹ اپیل کا مسودہ لیکر ان کے گھر آیا، نہ چاہتے ہوئے نوازشریف کی اپیل کا مسودہ پڑھا، مریم نواز کی پریس کانفرنس سے معلوم ہوا اپیل پڑھتے وقت ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبوی کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے وڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔
بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی۔جج ارشد ملک نے کہا کہ جب انہوں نے رشوت قبول کرنے سے انکار کیا تو انہیں دھمکی کے طور پر متنازع ویڈیو دکھائی گئی ۔
دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل پر دائر پٹیشن سماعت کیلئے مقرر کر لی ہے ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی 3 رکنی بنچ 16جولائی کوکیس کی سماعت کرے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اشتیاق احمد مرزا ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل پردرخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انکوائری سے عدلیہ کی آزادی اور وقار پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب مل جائے گا۔
ایسا لگتا ہے ویڈیو لیک ہونے سے عدلیہ کی آزادی پر سوال اٹھایا گیا۔ معاملے میں ملوث افراد کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے۔ جج ارشد ملک خود مریم نواز کے الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ جج ارشد ملک کو رشوت کی آفر کرنا ایک سنجیدہ الزام ہے۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں الزامات توہین عدالت ہیں۔ پٹیشن میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ خود اس سارے معاملے کی انکوائری کرے۔
عدالت میں انکوائری سے سچ سامنے لایا جائے۔ جس پر عدالت نے پٹیشن سماعت کیلئے مقرر کردی اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی 3 رکنی بنچ 16جولائی کوکیس کی سماعت کرے گا۔ درخواست میں وفاقی حکومت، شہبازشریف، مریم صفدر، شاہدخاقان عباسی اور راجہ ظفرالحق کوبھی فریق بنایا گیا ہے۔ اسی طرح درخواست میں ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ اورپیمرا کوبھی فریق بنایا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp