عدالتوں کا احترا م کرتے ہیں لیکن ثابت ہو گیا ہے انکے فیصلے احترام کے قابل نہیں ‘ شاہد خاقان عباسی

, یہ دبائو ڈال کر اور بلیک میل کر کے لئے گئے فیصلے ہیں ،آج ہمارا یا نواز شریف کا نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کا امتحان ہے , جیل کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے، نواز شریف سے جیل میں کسی شخصیت کی ملاقات نہیں ہوئی ، نواز شریف ایسے کاموں میں نہیں پڑٹے , اگر رانا ثنا اللہ منشیات کے عالمی گروہ کا حصہ تھے تو پھر ا ے این ایف نے تحقیقات کیلئے ان کا جسمانی ریمانڈ کیوں نہیں مانگا ‘ میڈیا سے گفتگو , سردار ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، سائرہ افضل تارڑ، عظمیٰ بخاری، عطا اللہ تارڑ اور دیگر کی رانا ثنا اللہ کی فیملی سے ملاقات

لاہور : پاکستا ن مسلم لیگ (ن) کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم عدالتوں کا احترا م کرتے ہیں لیکن ثابت ہو گیا ہے کہ ان کے فیصلے احترام کے قابل نہیں ، یہ دبائو ڈال کر اور بلیک میل کر کے لئے گئے فیصلے ہیں ،آج ہمارا یا نواز شریف کا نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کا امتحان ہے ، نواز شریف سے جیل میں کسی شخصیت کی ملاقات نہیں ہوئی اور نواز شریف ایسے کاموں میں نہیں پڑٹے ، اگر رانا ثنا اللہ منشیات کے عالمی گروہ کا حصہ تھے تو پھر اینٹی نار کوٹکس نے تحقیقات کیلئے ان کا جسمانی ریمانڈ کیوں نہیں مانگا ، اب حکومت بھی اس کیس سے الگ ہو رہی ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سردار ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر حسین، سائرہ افضل تارڑ، عظمیٰ بخاری، عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ رانا ثنا اللہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کی طرف سے رانا ثنا اللہ خان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ مشکل کی اس گھڑی میں پوری جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہے ۔
شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثنا اللہ کیلئے گھر سے کھانا لانے کی اجازت نہیں ، ادویات بھی فراہم نہیں کی جارہیں،انہیں شدید گرمی میں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل اینٹی نار کوٹکس فورس اور ایک وزیر نے ان پر عجیب عجیب الزامات لگائے لیکن حیرت ہے کہ تحقیقات کیلئے ایک روزکا جسمانی ریمانڈ بھی نہیں لیا گیا ۔
کہا گیا کہ یہ منشیات کا عالمی نیٹ ورک ہے ، اگر ایسا تو پھر ان سے تفتیش کرتے ۔ اب حکومت بھی اس کیس سے دور ہوتی جارہی ہے او رکہتی ہے کہ ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ ایک سینئر پارلیمنٹرین کو ہیروئن کے الزا م میں گرفتار کیا گیا جسے عقل او رمنطق تسلیم نہیں کرتی ، بچہ بچہ کہتا ہے کہ یہ کیس جھوٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اے این ایف سے پوچھا ہے کہ کیا فیصل آباد مارکیٹ ہے کہ وہاں سے لاہور سمگلنگ کی جارہی تھی ، آج تک کتنے سمگلرز پکڑے گئے ہیں جو ہیروئن فیصل آباد سے لاہور لاتے تھے ، یہ جھوٹا کیس ہے اور یہ رانا ثنا اللہ کی آواز کو دبانے کا کیس ہے اور اسے وقت ثابت کرے گا ۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کو کوئی تسلیم نہیں کرتا حکومت اس کیس کو عوام کے سامنے رکھے ۔ یہ صرف اذیت دینے اور پریشان کرنے کا حربہ ہے لیکن ہم اس سے ہرگز پریشان نہیں ہوں گے ۔ نواز شریف کے کیس کی حقیقت بھی سب نے دیکھ لی ہے ، یہ انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے ، ہم کہتے تھے کہ عدالتیںدبائو میں ہیں اور اس کے ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلیک میل کر رہی ہے ، اگردبائو ڈالنا ہے تو پھر انصاف کا نظام کیسے چلے گا ۔
عوام نے اسے رد کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی احتساب چاہتے ہیں لیکن جو ہورہا ہے وہ احتساب نہیں ۔ بات بڑی سیدھی سے ہے کہ ایک جج بلیک میل ہوا ہے اور اس نے دبائو میںفیصلہ دیا ہے ، آپ نے سنا ہے کہ جج صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں خودکشی کی حد تک چلا گیا تھا ۔ پریس ریلیز ،حلف نامہ او رٹی وی پر بھی بیان دیدیں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ یہ جرم کے بعد کے آفٹر شاکس ہیں ، جرم کر کے ایک ایک تضاد ہوتا جائے گا ، اب پریس ریلیز اور بیان حلفی میں تضاد ہے ۔
انہوںنے مریم نواز کو ریلی کی صورت میں احتساب عدالت لے جانے کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی ، وہ پاکستانی شہری ہیں وہ جس مرضی سڑک سے جائیں ان کا حق ہے ۔ لیکن میڈیا پر حق ختم ہو گیا ہے ، مریم نواز کا آٹھ منٹ بعد انٹر ویو بند کر دیا گیا یہ سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے اور اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے شاہ محمود قریشی کو بیرون ملک ایک صحافی کی جانب سے کیا کہا گیا ہے ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو تو شرم آنی نہیں یہ ہم سب کیلئے باعث شرم ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے لیکن ثابت ہو گیا ہے کہ عدالتوں کے فیصلے احترام کے قابل نہیں ، یہ دبائو پر اور بلیک میل کرکے لئے گئے فیصلے ہیں ۔ اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں ، عدالتوں کو خریدنا ہے ، دبائو میں لانا ہے تو پھر انصاف ختم ہو جائے گا پھر پیچھے کچھ نہیں رہتا۔ انہوں نے سینیٹ میں میر حاصل بزنجو کی چیئرمین سینیٹ نامزدگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت وہ سب سے جمہوریت اور اصول پسند رہنما ہیں او ران کی نامزدگی جمہوریت کی فتح ہے کیونکہ اپوزیشن میں مختلف نظریات کی حامل جماعتیں شامل ہیں ۔
67ممبران نے میر حاصل بزنجوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جو وفاق کی نمائندگی کرینگے ۔ اگر عمران خان پریس کانفرنس کر کے کہے میں خرید لوں گا ، گرفتار کر لوں گا ، عدالت سے سزا دلوا دوں گا تو سمجھیں یہ ہماری فتح ہو گی اور عمران خان کی شکست ہو گی اور اس سے بڑی شکست اس کی ہو نہیں سکتی ، حکومت میں طاقت ہو گی لیکن اگر یہ طاقت جمہوریت کی نفی کے لئے استعمال ہو گی تو عمران خان جو پہلے ہی اندر سے کھوکھلا ہے وہ مزید ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے نواز شریف سے کسی شخصیت کی جیل میں ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ میں صرف جنرل ناصر جنجوعہ کو جانتا ہوں اور میںنے کبھی ایسا نام نہیں سنا،جیل کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے نواز شریف سے کسی نے ملاقات نہیں کی ، نواز شریف اس طرح کے کاموں میں نہیں پڑتے۔ انہوںنے ویڈیو کو چیلنج کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اب یہ ہمار احق نہیں ،یہ ہمارا یا نواز شریف کا امتحان نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ اور حکومت کا ہے ۔
کیا اعلیٰ عدلیہ ملک میں انصاف کی ساکھ کو واپس لانے کی کوشش کر یگی کیا حکومت ثابت کرے گی کہ وہ انصاف خریدنے والی نہیں دبائو ڈالنے والی نہیں ۔ عمران خان نے بلیک میل کیا اور دبائو ڈالا ورنہ عمران خان نے کچھ روز قبل کہا تھاکہ ہمارا اس ویڈیو سے کوئی لینا نہیں یہ عدالت کا معاملہ ہے لیکن آ ج ان کا ایک وزیر جج کے بیان حلفی کا دفاع کر رہا ہے ۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp