سپیکر مشتاق غنی کی محکمہ داخلہ کو ہارون بلورشہادت واقعہ کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق بریفنگ دینے کی ہدایت

پشاور۔ : خیبرپختونخوااسمبلی کے سپیکرمشتاق غنی نے محکمہ داخلہ کو ہارون بلورپرہونیوالے خودکش دھماکے کے حوالے سے اب تک ہونی والی تحقیقات سے متعلق متاثرہ خاندانوں کوتفصیلی بریفنگ دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ سپیکر نے کھیلوں کے میدان کیلئے صوبے کی سطح پر پالیسی بنانے کی بھی رولنگ دیدی۔ صوبائی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران ہارون بلورشہیدکی بیوہ رکن اسمبلی ثمرہارون بلور نے حکومت سے استفسارکیاکہ ہارون بلورکی شہادت سے متعلق تقریباسات ماہ قبل سی ٹی ڈی نے انہیں آگاہ کیا تھا لیکن ان سات ماہ کے دوران اس کیس میں اورکونسی پیشرفت ہوئی ہے اس سے متعلق بلور خاندان سمیت دیگرمتاثرین مکمل طور پر لاعلم ہیں ،قلندرلودھی کی جانب سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پرسپیکرنے خودرولنگ دیتے ہوئے کہاکہ محکمہ داخلہ سات سے دس دنوں کے اندر ہارون بلور کی شہادت سے متعلق بلورخاندان سمیت دیگرپسماندگان کوتمام پہلوئوں سے آگاہ کرے ،وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ ن کے سرداراورنگزیب نے کہاکہ ایبٹ آباد میں کھیل کود کے مختلف میدان بندہونے کی وجہ سے بچے بے راہ روی کاشکار ہورہے ہیں جس پرصوبائی وزیر اکبرایوب نے کہاکہ سکیورٹی وجوہات کی بناء پر کھیل کے میدان بندپڑے ہیں تاہم متعلقہ محکموں کے ساتھ بیٹھ کر یہ پابندی ختم کرائینگے بعدازاں سپیکرمشتاق غنی نے رولنگ دی کہ اسمبلی میں متعلقہ اداروں کیساتھ میٹنگ کرکے صوبے کی سطح پر کھیلوں کے میدانوں کے حوالے سے پالیسی بنائینگے۔
وزیرصحت ہشام انعام اللہ نے کہاکہ ہم سیاستدانوں نے بھی ماضی میں بہت ماورائے قانون اقدامات اٹھائے ہیں جب زلزلہ آتاہے یاسیلاب کی تباہیاں سامنے آتی ہیں توہماری نظریں فوج پرجمی رہتی ہیں کہ وہ آکر ہمیں اس مصیبت سے بچائے ہماری بالخصوص سویلین اداروں کی استعداداس قابل نہیں کہ وہ اتنے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں کرسکے واقعی سکیورٹی آرمی کی ذمہ داری ہے اورانہو ں نے قیام امن کیلئے قربانیاں بھی دی ہیں لیکن آج تک ہم اس قابل نہ ہوسکے کہ بڑے پیمانے پر تباہی آنے پر سویلین ادارے کام کرسکیں دعاہے کہ ہمارے ادارے اس قابل ہوں کہ ہمیں آرمی کو نہ بلاناپڑے۔
وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزیرصحت ہشام انعام اللہ نے کہاکہ جن ایک ہزار ڈاکٹروں کے اپنے متعلقہ اضلاع کو تبادلے کئے گئے ہیں ان میں سے کسی کو واپس نہیں کیاجائیگا ڈی ایچ اے اورآرایچ اے سے متعلق ڈاکٹروں سے مذاکرات کاعمل جاری ہے اب تک صوبے کی64فیصدعوام صحت انصاف کارڈسے مستفید ہورہے ہیں بہت جلد مزیدچھ لاکھ کارڈزجاری کرینگے پہلے صحت کارڈکے ذریعے پانچ لاکھ پچاس لیکن اب دس لاکھ 80ہزارتک کاعلاج ممکن ہے۔صوبائی اسمبلی نے وفاق کے انتظامی افسران کی دوہری تعیناتی سے متعلق شگفتہ ملک کے سوال کوقائمہ کمیٹی کے حوالے کیا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp