AB De Villiers Sparks Controversy With His Latest Remarks On South Africa Comeback

اے بی ڈی ویلیئرز نے ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کے حوالے سے خاموشی توڑ دی

صرف تجویز دی تھی کہ اگر میری خدمات درکار ہیں تو میں دستیاب ہیں:سابق کپتان

کیپ ٹاﺅن : جنوبی افریقی ٹیم ناقص پرفارمنس کے باعث ورلڈ کپ 2019ءکے سیمی فائنل میں پہنچنے میں ناکا م رہی ۔پہلے 4میچز میں شکست کے بعدجنوبی افریقی سکواڈ کی تیاریوں پر بھی سوالات اٹھائے گئے تاہم ایک تنازع نے اس وقت سر اٹھایا جب 5جولائی کو بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد خبریں آئیں کہ سٹار بیٹسمین اے بی ڈیویلیئرز نے سکواڈ کے اعلان سے پہلے کپتان فاف ڈوپلیسی اور کوچ اوٹیس گبسن کے سامنے ریٹائرمنٹ واپس لینے کی تجویز دی تھی تاہم ٹیم مینجمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ڈی ویلیئرز کی غیرموجودگی میں کھیلنے والے سکواڈ کو ہی برقرار رکھا جائے گا۔
کرکٹ حلقوں میں اس رپورٹ پر بڑا شور اٹھا جبکہ مداحوں نے یہ قیاس آرائیاں شروع کردی کہ اس اعلان نے ورلڈکپ کے دوران جنوبی افریقی ٹیم کی توجہ ہٹائی ۔ اس سارے واقعے پراب ڈی ویلیئرز نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ورلڈکپ میں شامل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا تھا بلکہ صرف تجویز دی تھی کہ اگر ان کی خدمات درکار ہیں تو وہ دستیاب ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”ورلڈ کپ میں پروٹیز کی مہم اب ختم ہوچکی ہے اور ٹیم کی توجہ بھی نہیں ہٹے گی، لہٰذا میں ٹورنامنٹ کے دوران بلاجواز تنقید کا جواب دینا چاہتا ہوں“،اول یہ کہ میں نے مئی 2018ءمیں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا کیونکہ میں ورک لوڈ کم کرنا، اپنے بچوں اور اہلیہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتا تھا، بعض لوگوں کا اصرار تھا کہ یہ سب میں نے خالصتاً پیسے کےلئے کیا،وہ غلط ہیں، حقیقت میں میں نے دنیا بھر سے منافع بخش پیشکشیں مسترد کیں اور ہر سال گھر سے دور گزرنے والاوقت 8 ماہ سے کم کرکے صرف 3 ماہ کردیا۔
ڈی ویلیئرز نے وضاحت کی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کے باوجود ٹیم کی سپورٹ جاری رکھیں گے ، انہوں نے دنیا بھر میں ٹی 20 ٹورنامنٹ کھیلنے کی خواہش کو برقرار رکھا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ ورلڈ کپ کے 9 میں سے صرف 3 میچز جیت کر جنوبی افریقا نے پوائنٹس ٹیبل پر 7ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp