صرف منی ٹریل کی صورت میں ریلیف مل سکتا ہے، شہزاد اکبر

شریف فیملی آج منی ٹریل دے دیں اور کیس سے جان چھڑوا لیں، منی ٹریل کے بغیر آپ کی بخشش نہیں ہو سکتی۔ وفاقی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کی پریس کانفرنس

اسلام آباد : وفاقی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف کو صرف منی ٹریل کی صورت ریلیف مل سکتا ہے، آج منی ٹریل دے دیں اور کیس سے جان چھڑوا لیں، منی ٹریل کے بغیر آپ کی بخشش نہیں ہو سکتی۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبرنے کہا کہ ناصر بٹ سمیت کئی لوگوں کی جج سے ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا۔
ارشد ملک نے کہا کہ انہیں رشوت اور دھمکی دی گئی۔ جج ارشد ملک کو ڈرا دھمکا کر وڈیو ریکارڈ کی گئی۔ ارشد ملک کی حسین نواز سے بھی ملاقات کرائی گئی۔ حسین نواز نے جج کی آفر بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک کے بیان حلفی سے لگتا ہے یہ کام صرف ایک مافیا کا ہے۔ پہلے ایک جج کو دھمکیاں دی گئیں پھر لالچ دیا گیا۔ دیکھنا ہوگا کہ جج ارشد ملک کی تعیناتی کیسے کرائی گئی؟ جج ارشد ملک نے کہا کہ ان کی تعیناتی کرائی گئی ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت جج بشیر پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ ن لیگ کا منصوبہ تھا کہ نئے جج سے کوئی ریلیف لے لیں گے۔ نوازشریف کو ایک منی ٹریل کی صورت میں ریلیف مل سکتا ہے۔ منی ٹریل کے بغیر آپ کی بخشش نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سیاست تنگ گلی میں داخل ہو چکی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ بیان حلفی اورپریس ریلیزکی وجہ سے ارشد ملک کو ہٹانے کا کہا گیا۔ ارشد ملک نے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کسی دباؤ کے بغیر دیا۔ فیصلہ جج نے میرٹ پر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو دباؤ میں لانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ جج کو دھمکی دینے کی بھی سزائیں ہیں۔ ججز پر دباؤ ڈالنے والوں پرسیکشن31اے اپلائی ہوگا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp