وکلاء عدلیہ کی آزادی کیلئے متحد ہیں ، آزادی تک جدو جہد جاری رکھیں گے ،

پاکستان بار کونسل , پشاور میں وکلاء کنونشن کل ہوگا ،عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی،امید ہے سپریم جو ڈیشل کونسل ججز کے خلاف ریفرنسز خار ج کر دے گی،ہم نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں ریفرنس واپس لئے جائیں،اسی میں ریفرنس بھیجنے والوں اور بنانے والوں کی عزت ہے، اگر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا،امجد شاہ ، حامد خان ، علی احمد کرد اور یاسین آزاد کی پریس کانفرنس

اسلام آباد : پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کیلئے متحد ہیں ، آزادی تک جدو جہد جاری رکھیں گے ،پشاور میں وکلاء کنونشن (آج)ہفتہ کو ہوگا ،عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی،امید ہے سپریم جو ڈیشل کونسل ججز کے خلاف ریفرنسز خار ج کر دے گی،ہم نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں ریفرنس واپس لئے جائیں،اسی میں ریفرنس بھیجنے والوں اور بنانے والوں کی عزت ہے، اگر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔
جمعہ کو یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین امجد شاہ نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کی تیسری سماعت ہوئی ہے ، پشاور میں(آج) ہفتہ کو وکلاء کنونشن کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وکلاء کی تمام قیادت اس وقت سپریم کورٹ میں موجود ہے اور کسی قسم کے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔ سینئر وکیل حامد خان نے کہاکہ میں وکلاء قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ہمیں خوشی ہے کہ وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کیلئے آواز اٹھائی۔
حامد خان نے کہاکہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کیلئے متحد ہیں، وکیل عدلیہ کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔سینئر وکیل حامد خان نے کہاکہ تحریک کو کامیاب کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریفرنسز خارج کریگی۔ حامد خان نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے والے ایجنڈے کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔
سینئر وکیل یاسین آزاد نے کہاکہ ستر سال سے طاقت کے بل بوتے پر سویلین آزادی کو سلب کیا گیا، یہ ریفرنسز بھی طاقت کے بل بوتے پر بنائے گئے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے تمام وکلاء ایک ہیں ،ہم کسی کو عدلیہ کی آزادی سلب نہیں کرنے دیں گے۔سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن علی احمد کرد نے کہاکہ جھلسادینے والی گرمی میں ہم عدلیہ کی آزادی کے لئے کھڑے ہیں، ہمیں مجبور نہ کریں ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔
انہوںنے کہاکہ ہم نے کہا کہ ریفرنس بددیانتی پر مبنی ہے، صدر مملکت سے زیادہ ہماری بات میں وزن ہے۔ انہوںنے کہاکہ (آج)ہفتہ کو پورے ملک میں احتجاج کیا جائیگا۔ انہوںنے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کے ججز کے لئے لڑ رہے ہیں، آج قاضی فائز عیسیٰ ہیں تو کل کسی اور جج کی باری آئیگی۔ انہوںنے کہاکہ جب اپنی مرضی کے ججز لگائیں گے تو کوئی سپریم کورٹ نہیں آئیگا۔ انہوںنے کہاکہ وکلاء عدلیہ کی آزادی کے لئے ایک ہیں، ہم نرم لہجے میں درخواست کرتے ہیں ریفرنس واپس لئے جائیں۔ انہوںنے کہاکہ اسی میں ریفرنس بھیجنے والوں اور بنانے والوں کی عزت ہے، اگر ہماری عزت پر ہاتھ ڈالا گیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp