اسلام آباد ہائیکورٹ کا ارشد ملک کے بیانِ حلفی کو نواز شریف کی بریت کی درخواست کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کے حکم پر ارشد ملک کے بیان حلفی کو نواز شریف کی بریت کی درخواست کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد : : احتساب عدالت کے جج ارشد کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ترجمان اسلام آبادہائیکورٹ کے مطابق جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جج ارشد ملک کی خدمات واپس کرنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قانون کو خط لکھ دیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس نے خط میں کہا ہے کہ وزرات قانون جج ارشد ملک کی خدمات واپس لے۔
خط میں ارشد ملک کے بیانِ حلفی کو نواز شریف کی اپیلوں کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس کے حکم پر ارشد ملک کے ایفی ڈیوٹ اور خط کو نواز شریف کی مرکزی اپیل کا حصہ بنا دیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی سزا معطلی کی درخواست زیر سماعت ہے۔نواز شریف کی مرکزی اپیل کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد ستمبر میں ہو گی۔
ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کے حکم پر ارشد ملک کے بیان حلفی کو نواز شریف کی بریت کی درخواست کے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل جج ارشد ملک نے حلفیہ بیان جواب رجسٹرار ہائیکورٹ میں جمع کروا تھا، جج ارشد ملک کی جانب سے دستاویزات بھی جمع کروائی گئیں۔ دستاویزات اور حلفیہ بیان قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کو پیش کیا گیا۔
ارشد ملک نے خط کے ذریعے اپنے جواب میں کہا تھا کہ میں حلفیہ بیان دیتا ہوں میرا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے بلاوجہ بدنام کیا جا رہا ہے۔ جج ارشد ملک نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ میرے خلاف پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔جج ارشد ملک نے ویڈیو سے متعلق کہا کہ ویڈیو کو ایڈٹ کر کے چلایا گیا۔جج ارشد ملکنے اپنے جواب میں الزمات کی تردید کی اور کہا کہ میرے اوپر فیصلے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ ترجمان اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ارشد ملک نے یہ خط اپنے صفائی کے لیے پیش کیا۔ارشد ملک نے اپنے بیان کے ساتھ اتوار کو جاری کی گئی پریس ریلیز بھی لگائی ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp