اینکر زارا عباس نے اپنے شوہر مُرید عباس کے قتل کے حوالے سے مزید انکشاف کر دیئے

زارا نے کہا کہ میں نے مُرید کو منع کیا تھا کہ عاطف ٹھیک بندہ نہیں ہے اس سے دوستی نہ رکھو

کراچی : معروف ٹی وی اینکر زارا عباس نے اپنے خاوند مرید عباس کے قتل کے حوالے سے مزید تفصیلات بتائی ہیں۔ ایک نجی چینل سے بات کے دوران اُنہوں نے کہا کہ ان ظالموں نے میرے شوہر کو بے دردی سے مارا ہے۔ وہ ایک ایسا انسان تھا جوہر انسان کے دُکھ درد کو محسوس کرتا تھا۔ اُن کا احساس کرتا تھا۔ مُرید بہت کُھلے دِل کے مالک تھے۔ لوگوں کے لیے محبت اور ہمدردی رکھنے والے انسان کو اس قدر بے دردی سے مار دیا گیا ہے۔
میرے شوہر نے کبھی کسی کے ساتھ بُرا نہیں کیا۔ وہ کبھی کسی جانور کے ساتھ بھی بُرا نہیں کرتا تھا۔ مُرید نے اپنی انسان دوست طبیعت کے باعث عاطف زمان پربھی اعتبار کر لیا تھا۔ کیونکہ اُس نے مُرید کو یہی بتایا تھا کہ میرے بہن بھائی اور خاندان کے دیگر افراد 8اکتوبر کے حادثے میں سب مر گئے تھے۔ یہ شخص مُرید سے کہتا تھا کہ جب میرے پاس پیسہ نہیں تھا تو رشتے تھے۔
اور جب میرے پاس آج پیسہ ہے تو رشتے نہیں ہیں۔مُرید تم میرے لیے بھائیوں کی طرح ہو۔ زارا نے بتایا کہ مُرید نے مجھے 8 بجے کال کر کے کہا کہ عاطف زمان مجھے پیسے دینے بُلا رہا ہے۔ میں مُرید کو کہتی تھی کہ جس شخص کے ساتھ تمہاری دوستی ہے یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تو وہ کہتا تھا کہ تم ایسا نہ سوچا کرو۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ عاطف نے مُرید کو قتل کر دیا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے عللاقے ڈیفینس میں اینکر پرسن مرید عباس اور خضر حیات کے قاتل کا ریکارڈ جمع کر لیا گیا۔ ملزم انفینیٹی نامی کمپنی کی آڑ میں سمگلنگ کا کاروبار کر رہا تھا۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دوسرے بندے کی شناخت عادل کے نام سے ہوئی ہے۔عاطف زمان کی انفنٹی نامی کمپنی کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ملزم کمپنی کی آڑ میں 70 سے زائد افراد سے لگ بھگ 50 کروڑ روپے بٹور چکا تھا،میڈیا انڈسٹری کے 30سے 40افراد نے عاطف زمان کو پیسے دئیے تھے۔
ملزم عاطف ٹائر کی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا۔ملزم کے بلوچستان کے ٹائرز سمگلرز سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ملزم نے چند ماہ قبل 25کروڑ روپے چوری ہونے کا اظہار کیا تھا۔جس کے بعد شراکت داروں سے تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔عاطف زمان اور اس کے ساتھیوں نے درجنوں افراد کو جال میں پھنسا رکھا تھا۔آسانی سے پیسہ کمانے کے لالچ نے سینکڑوں افراد کے کروڑوں روپے ڈبو دئیے۔
بظاہر ٹائر کے نام پر کیے گئے کاروبار میں سینکڑوں افراد نے سرمایہ کاری کی تھی۔ ٹی وی انڈسٹری کے سینکڑوں ملازمین نے کروڑوں روپے لگا رکھے تھے۔مرید عباس نے بھی عاطف زمان کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کی تھی۔میڈیا انڈسٹری کے کچھ اور لوگ بھی ان کے پارٹنر تھے۔لوگوں سے کم از کم 10 لاکھ روپے کی رقم بطور سرمایہ کاری لی جاتی تھی۔10 لاکھ سرمایہ کاری کے عوض ہر 2ماہ بعد 50ہزار روپے دئیے جاتے۔دو ماہ سیسرمایہ کاری کرنے والوں کورقم کی ادائیگی نہیں ہو رہی تھی۔ سرمایہ کاری کے نام پر لی گئی رقم اور دئیے جانے والے پیسے کیش تھے۔میڈیا انڈسٹری کے لوگوں نے پرویڈنٹ فنڈ اور جائیدادیں بیچ کر سرمایہ کاری کی۔ لوگوں سے لیے اور دئیے گئے پیسوں کے لیے بینکنگ چینل کا استعمال نہیں کیا گیا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp