سابقہ حکومتوں میں اداروں کیساتھ کھلواڑ ہوا

سیاسی اداکاروں نے جمہوریت کو ڈھال بنا کر اداروں کو کمزور کیا،فردوس عاشق اعوان

لاہور ۔ :   اے پی سی میں کیے گئے فیصلوں میں سے صرف ایک پر عملدرآمد ہوا کہ اپوزیشن کی راہبر کمیٹی بن گئی اور اس نے چیئرمین سینٹ کو تبدیل کرنے کی منظوری بھی دے دی۔اس کے لیے بلوچستان سے حاصل بزنجو کا نام بھی فائنل ہو چکا ہے مگر تحریک التوا جمع کرانے کے باوجود ابھی بھی اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی کہ اپوزیشن چیئرمین سینٹ کو تبدیل کر پائے گی۔
کیونکہ حکومت مکمل طور پر صادق سنجرانی کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہے۔اسی حوالے سے تنقید کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کچھ سیاسی پنڈت سینٹ کو اپنی خواہش کے تحت چلانے پر بضد ہیں، قوم کسی سیاسی ایڈونچر کی متحمل نہیں ہو سکتی، لہٰذاحکومت صادق سنجرانی کے ساتھ کھڑی ہے۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سابق حکومت میں اداروں کیساتھ کھلواڑ ہوا۔
پاکستان میں جمہوریت کو ڈھال بنا کر اداروں کو کمزور کیا گیا۔ سیاسی اداکاروں نے اداروں کو کمزور کر کے انہیں اپنے تابع کیا۔ سیاست کے بارہویں کھلاڑی باہر بیٹھ کر پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی لشکر کشی کا اگلا ہدف سینٹ ہے لیکن سیاسی طور پر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ عام سیاستدان کی سوچ اگلے الیکشن تک محدود ہوتی ہے لیکن حقیقی لیڈر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے سوچتا ہے۔
حقیقی لیڈروں کو ووٹ بینک کے بجائے قوم کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اداروں کو اپنے تابع رکھنے والوں کیلئے سینٹ کا آزاد کردار ناگوار گزر رہا ہے۔ کچھ سیاسی پنڈت ضد کر بیٹھے ہیں کہ سینیٹ ان کی خواہش پر چلنا چاہیے۔ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ صادق سنجرانی نے ان کی شان میں کون سی گستاخی کر دی ہے؟ کیا چیئرمین سینٹ نے آئین کی خلاف ورزی کی؟ ہم ادارے کے تقدس کو بچانے کے لیے سینیٹ کو مستحکم کریں گے۔ اپوزیشن سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائے گی، اپوزیشن کی پنجہ آزمائی ہم بجٹ میں آزما چکے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp