ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی پالیسی تیار

کمیٹی بنا دی گئی جو جلد اپنی سفارشات حکومت کو بھجوائے گی

لاہور ۔ :   اکثر سرکاری ملازمتیں تین یا پانچ سال کے کنٹریکٹ پر آتیں اور بعدازاں ملازمین کو مستقل کر دیا جاتا ہے۔جبکہ کئی سرکاری محکمے ایسے ہیں جہاں کنٹریکٹ پر بھرتیاں کرنے کے بعد ملازمین سالہا سال کنٹریکٹ پر ہی رہتے ہیں۔پھر احتجاج کیے جاتے ہیں دھرنے ہوتے ہیں اور معاملہ کورٹ میں جانے کے بعد ہی وہ مستقل بنیادوں پر ملازم لگ پاتے ہیں۔
اس وقت بھی ملک بھر کے کئی سرکاری محکموںمیں ہزاروں کی تعداد میں کنٹریکٹ ملازمین کام کر رہے ہیں جن کا یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ انہیں مستقل کیا جائے مگر حکومت کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملتا۔ان کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو یہ بات بھی ستاتی رہتی ہے کہ ان کا کنٹریکٹ ختم ہونے پر کہیں انہیں ملازمت سے فارغ ہی نہ کر دیا جائے لہٰذا اس لیے بھی وہ زیادہ پریشان رہتے ہیں۔
تاہم اب حکومت نے ان کی اس پریشانی کوختم کر دیا ہے کیونکہ حکومت نے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔سرکاری کنٹریکٹ ملازمین کیلئے حکومت کی طرف سے خوشخبری ملنے والی ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے ہزاروں کنٹریکٹ ملازمین مستقل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنز کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
کمیٹی کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی بارے یکساں پالیسی تیار کرے گی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم کے مشیر ادارہ جاتی اصلاحات کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری قانون، سیکرٹری ریلویز، سیکرٹری پاور بھی کمیٹی ارکان میں شامل ہیں جبکہ جوائنٹ سیکرٹری ریگولیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔کمیٹی تو بنا دی گئی ہے دیکھتے ہیں یہ کمیٹی کتنی جلدی ان کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کومستقل کرنے کی سفارشات بھجواتی ہے جس پر عملدرآمد کر کے ملازمین کو خوشخبری دی جائے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 12 جولائی 2019

Share On Whatsapp