ٹرین حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے، شیخ رشید

اسٹیشن ماسٹر یا کانٹا بدلنے والے کی غلطی سے یہ سانحہ رونما ہوا ،تحقیقات کا حکم دیدیا ہے، وفاقی وزیر ریلوے , اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے سسٹم کی ناکامی ہے، حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور نہیں ریلوے آپریشن سسٹم ہے،چئیرمین ریلوے

راولپنڈی : وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا اکبر ایکسپریس کو پیش آنے والے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے، لگتا ہے کہ اسٹیشن ماسٹر یا کانٹا بدلنے والے کی غلطی سے یہ سانحہ رونما ہوا۔حادثے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افسوسناک حادثہ ہے، تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
شیخ رشید احمدنے کہا کہ جی ایم ریلوے اور متعلقہ حکام کو حادثے کی جگہ روانہ کر دیا گیا ہے، ریلیف اور ریسکیو کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا سسٹم اور نئے لوگ لائے ہیں، نئی ٹرینیں تو شروع کی گئی ہیں لیکن نیا ٹریک نہیں ڈالا گیا، لوگ چھتوں پر چڑھ کر سفر کرتے تھے، نئی ٹرینیں شامل کر کے چھتوں پر سفر کرنے والوں کو بوگیوں میں بٹھایا ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ حادثے کا جائزہ لے رہا ہوں، ریلوے حکام کو ریلیف اور ریسکیو کا کام تیز کرنے کا حکم دے دیا، امدادی کیمپ قائم کر دیا، ریلیف ٹرین پہنچ رہی ہے، ڈی ایس ریلوے سکھر سے جائے حادثہ پر پہنچ رہے ہیں۔چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اکبر ایکسپریس کا مال گاڑی سے ٹکرانا ریلوے سسٹم کی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوپ لائن پر مال گاڑی کی موجودگی میں اکبر ایکسپریس کو لوپ لائن پر لینا نااہلی ہے، ابتدائی تحقیقات سے لگتا ہے کہ حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور نہیں ریلوے آپریشن سسٹم ہے۔
چیئرمین ریلویز نے مزید کہا کہ حادثے کا حتمی ذمہ دار کون ہے، اس کا تحقیقات کے بعد ہی تعین ہو گا، ریلیف آپریشن تیز کر دیا گیا ہے، جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمی اسپتال پہنچائے جا چکے، اپ اور ڈائون ٹریک کلیئر ہیں۔واضح رہے کہ جمعرات کی صبح رحیم یار خان کے قریب لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی۔
ڈی پی او رحیم یار خان کے مطابق حادثے میں 11 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 67 زخمی مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیئے گئے ہیں، حادثے میں 3 سے 4 بوگیاں الٹ گئیں۔انہوں نے بتایا کہ 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں، ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا، ٹرین کی بوگیاں کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا۔بدقسمت ٹرین کے زیادہ تر مسافر اپنی مدد آپ کے تحت بوگیوں سے باہر نکلے، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہونے کے سبب امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہوا۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 11 جولائی 2019

Share On Whatsapp