اے این ایف اہلکاروں نے رانا ء ثناء اللہ کو حوالات میں کھڑے ہوکر تصویر بنوانے کو کہا جس پر انہوں نے انکار کر دیا، نبیلہ ثناء

اے این ایف حکام نے رانا ثناء اللہ کی جیل میں تصویر بنانے کے لیے ان کی منتیں کیں، اہلیہ نبیلہ ثناء

فیصل آباد : منشیات سمگلنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی اہلیہ نبیلہ ثناء نے کہا ہے کہ ملاقات کے دوران رانا ثناء اللہ نے انہیں بتایا کہ اے این ایف اہلکاروں نے رانا ء ثناء اللہ کو حوالات میں کھڑے ہوکر تصویر بنوانے کو کہا جس پر انہوں نے انکار کر دیاتھا لیکن بعد میں اے این ایف حکام نے رانا ثناء اللہ کی جیل میں تصویر بنانے کے لیے ان کی منتیں کیں جس پر وہ حوالات میں کھڑے ہو گئے اور ان کی تصویر بنائی گئی۔
خیال رہے کہ رانا ثناء اللہ کو پیر کے روز اے این ایف نے منشیات سمگلنگ کے سلسلے میں گرفتار کیا تھااور عدالت نے ان کا 14روزہ ریمانڈ منظور کر لیا تھا جس کے بعد وہ اے این ایف کی تحویل میں ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی گاڑیسے 15کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی اتنی جلدی ضمانت نہیں ہوگی۔ بیرک میں جانے کے فوراََ بعد ہیگرمی اور حبس کے باعث رانا ثناء اللہ کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔
شہریار آفریدی کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ تقریبا تین ہفتے راناثناءاللہ کی گاڑی کو اوبزرو کیا گیا۔ رانا ثناءاللہ سے متعلق ہمارے پاس تمام چیزیں موجود ہیں۔اب کوئی نہیں بچے گا ،ہمیں بڑوں بڑوں پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کیگاڑی کی تین ہفتے تک نگرانی کی گئی۔شہریار آفریدی نے کہا کہ فیصل آبادمیں ایک گرفتاری ہوئی جس سے ہمیں لیڈز ملی اور آگے کام کیا۔
یہ ہیروئنیہاں سےلاہور اور وہاں سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں جانا تھی۔ نبیلہ ثناء اللہ نے اس سے پہلے بتایاتھا کہ ان کے خاوند کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ نبیلہ ثناء نے کہا کہ وہ رانا ثناء اللہ کو ملنے والی سہولیات سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رانا ثناء اللہ کو دو افراد پکڑ کر لائے ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 11 جولائی 2019

Share On Whatsapp