اکبر ایکسپریس حادثہ کانٹے والے کی وجہ سے ہوا، وفاقی وزیرِ ریلوے

ٹرین حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے، ٹریک کی حالت بھی اچھی نہیں ہے، تحقیقات کا حکم دے دیا ہے: شیخ رشید احمد

اسلام آباد : وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے کو انسانی غفلت قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اکبر ایکسپریس غفلت کے باعث حادثے کا شکار ہوئی ہے، حادثہ انسانی غلفت کا نتیجہ ہے، اس میں کانٹے والا ملوث ہے جب کہ ٹریک کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہیں تاہم حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہے جسے ٹھیک کرنے میں وقت لگ رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ شب مسافر ٹرین ٹریک پر کھڑی مال ٹرین سے ٹکرا گئی۔جس کے نتیجے میں ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور 9مسافر جاں بحق ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد زخمی بھی ہو گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ رحیم یار خان کے قریب پیش آیا ہے۔ لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس دلہار اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں یہ دلخراش حادثہ پیش آیا ہے۔
پولیس کے مطابق لاشیں گاڑی سے نکال لی گئی ہیں جبکہ کچھ لاشیں ابھی بھی بوگیوں میں پھنسی ہوئی تھیں انہیں بھی نکال لیا گیا ہے۔ان لاشوں کو نکالنے کے لیے ہائیڈولک کٹر منگوایا گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے صادق آباد ٹرین حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو نے کہا کہ ٹرین حادثوں پر وزیر کے مستعفیٰ ہونے کی مثالیں دینے والے عمران خان اپنے وزیر سے استعفیٰ مانفیں گے؟ انہوں نے کہا شیخ رشید کا وزارت سے رومانس ٹرین حادثوں میں نجانے کتنی انسانی زندگیاں نگلتا چلا جائے گا۔
میڈیا ذرائع کی جانب سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق شیخ رشید کے وزارت ریلوے کا قلم دان سنبھالنے کے بعد سے گزشتہ تقریباً ایک سال کے دوران ٹرین حادثات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2018ء سے لے کر رواں ماہ جولائی 2019ء تک ٹرینوں کو 79چھوٹے بڑے حادثات پیش آ چکے ہیں۔ جس کے نتیجے میں درجنوں انسانی جانوں کا ضیاع تو ہوا ہی، ساتھ میں محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی جھیلنا پڑا ہے۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کی دور میں ٹرین حادثات کے کثرت سے رُونما ہونے کی وجہ شیخ رشید کے بہت سے غلط فیصلے ہیں۔ جن میں سے ایک فیصلہ آفتاب اکبر کی جنرل مینیجر ریلوے آپریشنز کے کلیدی عہدے پر تعیناتی ہے جو کہ اس عہدے کے لیے بالکل ناتجربہ کار اور غیر موزوں ہیں۔ اُن کی غلط حکمت عملیاں ریلوے کو لے ڈُوبی ہیں۔ جنرل مینیجر آفتاب اکبر نے اپنی ناتجربہ کاری کے باعث دیگر اہم عہدوں پر بھی جونیئر اور کم تجربے والے افسران کو تعینات کیا ہوا ہے، حالانکہ ان عہدوں پر ریلوے کے کئی سینیئر افسران کا حق بنتا تھا، جنہیں اس وقت کھُڈے لائن لگا یا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 11 جولائی 2019

Share On Whatsapp