Emirati Businessman Wants To Tow Icebergs From Antarctica To The Arabian Gulf

اماراتی کاروباری شخص انٹارکٹکا سے برفانی تودے کو کھینچ کر خلیج عرب لانا چاہتا ہے

ایک اماراتی کاروباری شخص  اور موجد ایک نئے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، جس میں وہ  انٹارکٹکا سے ایک برفانی تودے کو کھینچ کرخلیج عرب لانا چاہتے ہیں۔ اُنکا مقصد اس برفانی تودے سے متحدہ عرب امارات کو تازہ پانی فراہم کرنا ہے۔
بنجر زمین اور خشک ماحول کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں پانی کے حوالے سے زیادہ ذرائع نہیں۔ اس عرب ملک کا زیادہ انحصار نمکین پانی سے نمک ختم  کر کے اسے استعمال کرنے پر ہے۔

یہ طریقہ کافی مہنگا  اور ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔لیکن اب کاروباری عبداللہ الشیحی نے پانی کے حصول کا غیر روایتی طریقہ سوچا ہے۔پچھلے چھ سالوں سے وہ ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس  کا مقصد  2 کلومیٹر لمبے اور 500 میٹر چوڑے برفانی تودے کو انٹارکٹکا سے  کھینچ کر خلیج عرب میں لانا ہے۔ اس کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے برفانی تودے کو 5500 کلومیٹر دور لائیں گے۔

پانی میں تیرتا برف کا ٹکڑا نہ صرف لاکھوں لوگوں کو تازہ پانی فراہم کر ے گا بلکہ ماحول پر بھی  کافی اچھا اثر ڈالے گا۔ عبداللہ نے یورو نیوز کو بتایا کہ  نمکین پانی سے نمک ختم کر کے استعمال کرنے کی بجائے برفانی تودے کو کھینچ کر لانا اور تازہ پانی حاصل کرنا زیادہ سستا ہوگا۔
برفانی تودے سے تازہ پانی حاصل کرنا نیا خیال نہیں۔ 1975 میں فرانسیسی سائنسدانوں نے انٹاکٹکا سے برفانی تودہ کھینچ کر سعودی عرب لانے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم ٹیکنالوجی کی مشکلا ت کے باعث یہ منصوبہ ختم کرنا پڑا۔
عبداللہ کا کہنا ہے کہ اب 21 ویں صدی میں جدید ٹیکنالوجی سے ایسا کرنا ممکن ہے۔
عبداللہ کا منصوبہ ہے کہ وہ برفانی تودے کو قطب جنوبی کے قریب  ہیرڈ جزیرے سے کھینچ کر خلیج عرب لائیں۔ اس کے لیے دھات کی ایک خصوصی بیلٹ استعمال کی جائے گی، جو برفانی تودے کے گرد لپیٹی جائے گا، اس سے تودہ دو ٹکڑے ہو کر الگ الگ نہیں ہوگا۔اندازہ ہے کہ یہ برفانی تودہ 10 ماہ میں انٹار کٹکا سے خلیج عرب پہنچے گا۔
اس دوران اس کا حجم 30 فیصد کم ہو جائےگا۔عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ اسے پگھلنے سے روکنے کےلیے بھی مناسب اقدامات کریں۔یہ برفانی تودہ سردیوں میں خلیج عرب میں پہنچایا جائے گا تاکہ  یہ کم سے  کم پگھلے۔
اس سال کے آخر میں ایک چھوٹے برفانی تودے کو  دوسرے مقام پر منتقل کرنے کے تجربات شروع کیے جائیں گے، جس میں کامیابی کے بعد بڑے برفانی تودے کو  متحدہ عرب امارات کے فجیرہ ساحل تک پہنچایا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : منگل 9 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں