پاکستان اور برطانیہ کا صحت عامہ کے شعبہ میں اشتراک کار کو فروغ دینے پر اتفاق

اسلام آباد : پاکستان اور برطانیہ نے صحت عامہ کے شعبہ میں اشتراک کار کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو رچرڈ گلیو کے دورہ پاکستان کے دوران طے پایا جنہوں نے گذشتہ ہفتہ پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ دورہ پاکستان کے دوران انہوں نے پاکستان میں صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے ایک ورکشاپ کی میزبانی بھی کی۔
یہ ورکشاپ وزارت قومی صحت، خدمات و ریگولیشنز، قومی ادارہ صحت اور صوبائی محکمہ ہائے صحت کے سینئر اہلکاروں کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ دورہ کا مقصد پاکستانی شہریوں کو صحت عامہ کی خدمات میں بہتری کیلئے معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے پاکستانی حکام کو انگلینڈ میں صحت عامہ کے شعبہ میں درپیش چیلنجز اور مواقع کے بارے میں اپنے تجربات سے بھی آگاہ کیا جس کی وجہ سے حالیہ برسوں میں انگلینڈ میں صحت عامہ کے شعبوں میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں۔
اپنے دورہ کے اختتام پر رچرڈ گلیو نے کہا کہ انہیں دوبارہ دورہ پاکستان پر بے حد خوشی ہوئی ہے جہاں انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور رابطے استوار کئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارہ کے پاس عالمی معیار کے ماہرین موجود ہیں اور انہوں نے پاکستانی حکام کو اپنے تجربات میں شریک کیا ہے، ہم پاکستان کے ساتھ صحت عامہ کے شعبہ میں اشتراک کار کو بڑھانا چاہتے ہیں بالخصوص متعدی بیماریوں کے حوالہ سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تعاون اور اشتراک کار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کا پبلک ہیلتھ کا ادارہ 2016ء سے پاکستان کے ساتھ تعاون کررہا ہے، یہ ادارہ پاکستان میں بین الاقوامی معیار اور ضابطوں کے تحت تکنیکی معاونت بھی فراہم کررہا ہے۔ ابتدائی طور پر برطانیہ کے بین الاقوامی ترقی کے ادارہ نے اس ضمن میں مالی معاونت فراہم کی تھی۔ 19 اپریل سے برطانیہ کا صحت و سماجی تحفظ کا ادارہ اس مقصد کیلئے فنڈز فراہم کررہا ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 8 جولائی 2019

Share On Whatsapp