صحت سہولت پروگرام پاکستان کی تاریخ کا ایک انقلابی اور مثالی پروگرام ہے، وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہا ہے کہ صحت سہولت پروگرام پاکستان کی تاریخ کا ایک انقلابی اور مثالی پروگرام ہے، وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا سماجی تحفظ کے اس اقدام کے ذریعے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی15ملین غریب خاندانوں کو صحت کی انشورنس دی جارہی ہے۔
ان میں سے پنجاب کے 36اضلاع کی6897000غریب خاندان، بلوچستان کی32اضلاع کی515000خاندان، سندھ کی29اضلاع کی3868316 خاندان اور پورے تھرپارکر کی300,000خاندان شامل ہیں جبکہ پختونخوا کی29اضلاع کی1621088 خاندان، آزاد جموں و کشمیر کی11اضلاع کی335000 خاندان، گلگت بلتستان کی9اضلاع 126000 خاندان شامل ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے 11اضلاع کے ایک لاکھ خاندان شامل ہیں اور اسلام آباد کے 85000خاندان صحت سہولت کارڈز سے مستفید ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صحت سہولت پروگرام میں ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی طبی نگہداشت کو کوریج دی گئی ہے، مریض جن امراض کا علاج کرواسکتے ہیں ان میں اوپن ہارٹ سرجری، سٹنٹس ڈلوانے، ذیابیطس (شوگر) سے پیدا شدہ پیچیدگیاں، اعضاء فیل ہونے کا علاج، کینسر کا علاج بشمول کیموتھراپی، ریڈیو تھراپی اور سرجری شامل ہیں۔ نیورو سرجیکل آپریشنز تمام سرجیکل اور ثانوی بیماریاں، ماں بچہ کی صحت سے متعلقہ میٹرنٹی پیکج اور تمام ایمرجنسیز شامل ہیں، اس میں سالانہ طور 720,000روپے کی انشورنس کی حد دی گئی ہیں۔
ڈاکٹرظفر مرزا نے بتایا کہ اب تک 3.24ملین خاندانوں کا اندراج کیا گیا ہے اور608233مریضوں نے ہسپتالوں کا وزٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مخصوص علاج معالجہ کے لئی145000سے زائد مریضوں کو داخل کیا گیا جبکہ 442005نئے خاندانوں کا پروگرام میں اندراج کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خیبر پختونخوا کے ضم ہونے والے اضلاع کے تمام خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز دئیے جائیں گے اور اس کے علاوہ سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تمام آبادی کو کور کیا جائے گا۔
وزیراعظم پاکستان نے نادرا میں اندراج رکھنے والے تمام معذور افراد کو پروگرام میں شامل کرنے کے لئے خصوصی احکامات دئیے ہیں۔ انہو ں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت نارمل ڈلیوری کی 5212سروسز حاصل کی گئیں ہیں اور8868ڈلیوری کے بڑے آپریشن ہوئے ہیں 1505مریضوں نے انجیوگرافی کرائی اور سٹنٹ ڈلوائے جبکہ1064مریضوں کی اوپن ہارٹ سرجری یعنی بائی پاس ہوا۔
کینسر کی1522مریضوں کا علاج ہوا، 8310مریضوں کے ڈایلیسسز ہوئے، ٹراما کی3016ہرنیا کی8864اور اپنڈکس کی8373مریضوں جبکہ11104کالے موتیا کے آپریشنز کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں کو خدمات کی مفت فراہمی کے لئے تمام پاکستان بھر میں 265ہسپتال پینل پر رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر استفادہ کنندہ کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے وقت ایک ہزار روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں دئیے جاتے ہیں اور پینل پر موجود ہسپتالوں میں مریض کے وفات پا جانے کی صورت میں لواحقین کو تدفین کے لئی10,000روپے دئیے جاتے ہیں۔
صحت سہولت پروگرام میں بین الصوبائی اور بین الاضلاعی سہولت بھی دی گئی ہے جس کے تحت پاکستان بھر میں پینل پر موجود ہسپتالوں سے اپنا داخلی مفت علاج کروا سکیں گے۔اس کے علاوہ مریضوں کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لئے ٹول فری نمبر0800-090099 دیا گیا ہے اور کوئی بھی استفادہ کنندہ اپنی شکایات درج کروا سکتا ہے اور ایس ایم ایس سروس کے ذریعے کوئی بھی استفادہ کنندہ اپنی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی لے سکتا ہے جبکہ اس ضمن میں اسے اپنا شناختی کارڈ نمبر دینا ہوگا۔
میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 43 اضلاع میں صحت سہولت کارڈ فراہم کر دیئے گئے ہیں،صوبہ سندھ میں صحت سہولت کارڈ کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا۔ سندھ میں صحت سہولت کارڈ نہیں فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔ سیاسی وجوحات کی بنا کر یا صوبائی حکومت کی جانب سے دلچسپی نا لینے کے باعث سندھ کے عوام اس سہولت سے فایدہ نہیں اٹھا پائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے سندھ میں اعلان کیا تھا کہ تھر پارکر میں یہ پروگرام پہنچائیں گے، تھر پارکر کے تمام خاندانوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوششیں کیں جائیں گی، تھرپارکر میں امیدی نامی خاتون کا صحت سہولت پروگرام کے تحت علاج کیا گیا ہے،صحت سہولت کارڈ کا گزشتہ روز ہی تھر میں پروگرام شروع کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ ملک کے 2 سو 80 نجی اسپتالوں کو صحت سہولت کارڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 5 جولائی 2019

Share On Whatsapp