Misophonia – The Rare Condition That Makes Certain Sounds Unbearable For Sufferers

مسوفونیا۔ ایک ایسی عجیب و غریب بیماری، جس میں عام آوازیں بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں

عام طور پر  لوگوں کو  معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اُن کے ساتھ موجود شخص چیونگم چبا رہا ہے لیکن ایک عجیب و غریب بیماری ایسی بھی ہے، جس سے عام سی  ہلکی  آوازیں   بھی ناقابل برداشت حد تک  تیز محسوس ہوتی ہیں۔مسوفونیا ایک ایسی ہی بیماری ہے۔
مسوفونیا کو منتخب آوازوں کی حساسیت یا  Selective Sound Sensitivity بھی کہا جاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص  کسی دوسرے انسان کی نکالی گئی عام سی اور ہلکی آوازوں پر  شدید جذباتی یا نفسیاتی ردعمل دیتا ہے۔
یہ آوازیں چبانے، شور کرنے، انگلیاں چٹخانے اور حتیٰ کہ سانس لینے کی بھی ہو سکتی ہیں۔مسوفونیا کے مریض کا ردعمل ان آوازوں پر کافی غصے،ذہنی دباؤ اور نفرت  والا ہوتا ہے۔اس جذباتی رد عمل کے ساتھ اس بیماری میں مبتلا شخص کی نبض تیز چلنے لگتی ہے، وہ کپکپانے لگتا ہے، اسے پسینہ آتا ہے اور اس کے دل کی دھڑکن بھی تیز  ہو جاتی ہے۔
28 سالہ مارگوٹ نوئل کا تعلق برطانیہ سے ہے۔
وہ بھی مسوفونیا کی مریضہ ہیں۔ حال ہی میں بی بی سی نے اُن پر ایک ڈاکیومنٹری بنائی ہے۔ مارگوٹ کے لیے دیگر آوازوں کے ساتھ    خستہ کھانوں  جیسے چپس وغیرہ کے ٹوٹنے،  سرگوشیاں کرنے، پین  کے کلک کرنے اور انگلیاں چٹخانے جیسی عام آوازیں بھی ناقابل برداشت ہو جاتی ہیں۔مارگوٹ ایسی جگہ پر کھڑی بھی نہیں ہو سکتیں جہاں  ناپسندیدہ  آوازیں آ رہی ہوں۔

مارگوٹ کو یاد ہی نہیں کہ وہ کب سے اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ ابتدائی عمر میں اُن کے بھائی نے انہیں  ناپسندیدہ آوازوں کا عادی بنانے کے لیے زبان سے کھٹ کھٹ کی آوازیں پیدا کیں لیکن مارگوٹ سے یہ برداشت نہیں ہوئیں۔ آج اُن کا بھائی، اُن کی بیماری کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے  لیکن مارگوٹ کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مارگوٹ کو تین سال پہلے ہی پتا چلا ہے کہ  انہیں مسوفونیا کا مرض لاحق ہے۔
وہ تھیٹر میں ایک ڈرامہ دیکھ رہی تھیں کہ قریب بیٹھے شخص کی سانسوں کی آوازوں نے انہیں بے چین کردیا۔ وہ گھر آئیں اور انٹرنیٹ پر اپنی علامتوں سے بیماری کے بارے میں سرچ کرنے لگی۔ تبھی انہیں معلوم ہوا کہ  وہ مسوفونیا کی مریضہ ہیں۔ اس بیماری کے بارے میں پتا چلنے  پر مارگوٹ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں  آواز  نکالنے والے شخص کو اتنا ہی کہہ دیتی ہے کہ وہ اس طرح کی آوازیں نہ نکالے، وہ مسوفونیا کی مریض ہے۔ مارگوٹ نے بتایا کہ لوگ ان کی درخوست پر آوازیں نکالنا یا شور کرنا بند کر دیتے ہیں۔
عام زندگی میں بھی مارگوٹ زیادہ ترا پنے کانوں پر ائیر پلگ یا ہیڈفون لگائے رکھتی ہیں تاکہ انہیں ناپسندیدہ آوازیں سنائی ہی نہ دیں۔

تاریخ اشاعت : منگل 2 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں