Man Ate Expired Food For A Whole Year To Prove Expiration Dates Have Little To Do With Safety

پورے سال تک زائد المیعاد کھانا کھانے والا شخص۔۔ دلچسپ وجہ

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کھانے پینے کی مصنوعات پر  لکھی زائد المیعاد تاریخ کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے  ایک سال تک ایسی مصنوعات استعمال کی اور لوگوں کو اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ بھی رہا۔
سکاٹ نیش، جو ماحولیات داں ہیں اور ایک نامیاتی فوڈ اسٹور کمپنی چلاتے ہیں،  کو یہ غیر معمولی تجربہ کرنے کا خیال تین سال پہلے آیا۔

ایک بار وہ دہی کو فریج میں رکھ کر بھول گئے اور ان کی تاریخ میعاد گزرنے کے 6 ماہ بعد اسے کھایا۔انہوں نے بتایا کہ اس دہی کا ذائقہ کافی عجیب تھا لیکن اسے استعمال کرنے کے بعد انہیں صحت کا کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔اس تجربے سے انہیں کمپنیوں کی تاریخ  میعاد کے بارے میں اندازہ ہوا۔سکاٹ کا کہنا ہے کہ تاریخ میعاد ایک مبہم اصلاح ہے، اس سے اندازہ نہیں ہوتا کہ اس تاریخ تک اس پروڈکٹ کو فروخت کرنا ہے یا استعمال کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تاریخ میعاد لوگوں کو کنفیوژ کرتی ہیں۔
انہوں نے ایک بلاگ  پوسٹ میں لکھا کہ  کھانے (اور نہ کھائی جانے والی اشیا)  کا فوڈ پراڈکٹ ڈیٹنگ سسٹم تبدیل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ  اس حوالے سے واضح اصطلاحات استعمال کی جانی چاہیے۔یہ ”تک بہترین“، ”بہترین کوالٹی کے لیے“،  ”تک استعمال کریں“ اور ”تاریخ میعاد“ ہونی چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ یہ تمام تاریخیں حقائق کے مطابق ہونی چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ بہت سی اشیاء جیسے نمک اور ڈبے میں بند چیزوں پر تاریخ میعاد لکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
اپنے ایک سالہ تجربات کے دوران سکاٹ اور اُن کے خاندان نے ایسی مصنوعات استعمال کیں جن کی تاریخ میعاد ایک سال پہلے گزر چکی تھی۔انہوں نے ایسی کریم بھی استعمال کی جس کی میعاد گزرے  کئی ماہ ہو چکے تھے۔
انہوں نے فریج میں کئی ماہ سے رکھے مکھن کو بھی استعمال کیا۔اس مکھن پر پھپھوندی لگ چکی تھی لیکن انہوں نے پھپھوندی کھرچ کر اسےپکانے کے  تیل کے طور پر استعمال کیا۔
سکاٹ نے اعتراف کیا کہ تاریخ میعاد کے بعد کچھ کھانے واقعی خراب ہو جاتے ہیں، جنہیں پھینکنا پڑتا ہے۔سکاٹ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو صرف تاریخ میعاد دیکھ کر ہی  اچھا خاصا کھانا برا لگنے لگ جاتا ہے۔

بلاگ پوسٹ میں سکاٹ نے چند دلچسپ مثالیں دے کر بتایا کہ  زمین پر نمک 250 ملین سال سے زائد المیعاد نہیں ہوا لیکن پیکٹ کے مطابق یہ 2020 میں زائد المیعاد ہو جائے گا،ڈبوں میں بند اشیا دس بیس سال بھی  کارآمد رہ سکتی ہیں۔
سکاٹ کا خیال ہے کہ  کمپنیاں صارفین سے بالکل ٹھیک پراڈکٹ ضائع کرا کر انہیں  نئی اشیا خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔انہوں نے لکھا کہ جب ہم کوئی چیز پھینکتے ہیں تو یہ کمپنیوں کے  لیے منافع کا سودا ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ  ایف ڈی اے اور گروسری کی صنعت سے متعلقہ لوگوں کا اتفاق ہے کہ  واضح تاریخ المیعاد لکھنے سے  کھانے کا ضیاع کم ہوگا۔تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی ایسا قانون ہی موجود نہیں ہے۔اس وجہ سے کمپنیوں کی مہر، چاہے وہ کوئی بھی  تاریخ لکھیں، کافی سمجھی جاتی ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 30 جون 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں