Family Used 17th Century Bowl, Worth $4.9 Million, To Keep Tennis Balls

ایک خاندان 77 کروڑ روپے کے قیمتی برتن کو ٹینس کی گیند رکھنے کےلیے استعمال کرتا رہا

ایک خاندان لاعلمی میں انتہائی نایاب چین کے برتن کو معمولی اشیا جیسے ٹینس کی گیند رکھنے کےلیے استعمال کرتا رہا۔ اس برتن کی قیمت 4.9 ملین ڈالر ہے۔ اُن کی خوش قسمتی کہ انہوں نے اس برتن کو کبھی پھینکا نہیں۔
سی این این کی رپورت کے مطابق سوئس نیلام گھر کولر آکشنز کے ماہرین نے اس برتن کو ایک گھر میں پڑا دیکھا تو اس کی قیمت کا اندازہ لگایا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ برتن 17 ویں صدی کے آخر کا ہے۔

کولر آکشنز کے ہیڈ آف میڈیا ریلیشنز اینڈ مارکیٹنگ کارل گرین کا کہنا ہے کہ جب اُن کے ماہرین نے یہ برتن دیکھا تو کافی حیران ہوئے۔ انہوں نے اس سے پہلے اس طرح کی کوئی چیز نہیں دیکھی تھی۔
سوئس خاندان، جن کی ملکیت میں یہ برتن ہے، نے اسے چین کے دورے کے دوران خریدا تھا۔ مسٹر گرین کے مطابق اس خاندان نے برلن کے ایک میوزیم کو یہ برتن دینے کی پیش کش کی ہے لیکن میوزیم نے اسے ڈسپلے پر سجانے میں دلچسپی ہی نہیں لی۔
برطانوی نیلام گھر نے بھی اس کی تصویریں دیکھ کر  اسے مسترد کر دیاتھا۔ اس پر خاندان سمجھا کہ اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ اس لیے انہوں نے اس میں عام سی چیزیں جیسے ٹینس کی گیند رکھنا شروع کر دیں۔
تاہم جب کولر آکشنز نے اسے ہانگ کانگ میں ہونے والی نیلامی میں رکھا تو ایہ 4.8 ملین سوئس فرانک کی خطیر رقم میں فروخت ہوا۔
اسی طرح کے، پچھلے سال کے ایک واقعے میں مشی گن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی قسمت اس وقت جاگی جب انہیں معلوم ہوا کہ دروازے پر رکھے جس پتھر کو وہ عام سا سمجھتے رہے، وہ حقیقت میں شہاب ثاقب کا ٹکڑا ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں