وزیراعظم عمران خان نے بیوروکریسی کا بھی احتساب کرنے کا فیصلہ کر لیا

افسران کا بھی احتساب ہو گا، جس جس نے خزانے کو نقصان پہنچایا اسے چھوڑا نہیں جائے گا، تحقیقاتی کمیشن خزانے کو نقصان پہنچانے والے تمام لوگوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا: وزیراعظم

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے بیوروکریسی کا بھی احتساب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اس اجلاس میں ارکاناسمبلی نے بیوروکریسی کے رویے کی شکایت کی۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصافکے ارکان اسمبلی نے شکوہ کیا کہ بیوروکریسی سے کوئی کسی قسم کا سوال نہیں کرتا۔
پی ٹی آئی ارکان نے بیوروکریٹس سے بھی اثاثوں کی تفصیل پوچھنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے شکوہ کیا کہ بیوروکریٹس کے بچے بھی تو باہر پڑھتے ہیں لیکن ان سے کوئی سوال نہیں کرتا۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیوروکریسی کے احتساب پر بھی نظام وضع کر رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اب بیوروکریسی کا بھی احتساب ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جس جس نے خزانے کو نقصان پہنچایا اسے چھوڑا نہیں جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے لیے گئے قرض کی تحقیقات کرنے والا تحقیقاتی کمیشن خزانے کو نقصان پہنچانے والے تمام لوگوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کرے گا اور جو لوگ خزانے کو نقصان پہنچانے والوں میں شامل ہیں انہیں جواب دینا ہو گا۔ خیال رہے کہ آج پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔
وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹرز کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں پھر کہہ رہا ہوں کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا ، این آر او کے لیے مجھے براہ راست اپروچ نہیں کیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں امیر قطر کے دورہ پاکستان کے بعد سے این آر او ہونے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خاننے اجلاس میں کہا کہ اپوزیشن احتجاج کا شوق پورا کر لے مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں۔ اراکین عوام کو معاشی بحران کے ذمہ داروں سے آگاہ کریں۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp