نواز شریف کی ڈیل کے لیے رقم کی منتقلی دو تین ملکوں سے ہوگی

اہم قطری شخصیت نے بھی رقم واپسی کی یقین دہانی کروائی، سعودی عرب کا الرازی بینک میں نوازشریف کے صاحبزادے کا اکاؤنٹ ہے، سوئٹرزلینڈ میں امجد نامی شخص سرگرم ہے، حکومت نے فیصلہ کیا کہ رقم واپس لیکر معیشت کو بہتر کیا جائے، یہ این آراو نہیں لوٹی رقم کی واپسی تصور ہوگا

لاہور : سابق وزیراعظم نوازشریف کی ڈیل کیلئے رقم کی واپسی دوبینکوں سے ہوگی،اہم قطری شخصیت نے بھی رقم واپسی کی یقین دہانی کروائی، سعودی عرب کا الرازی بینک میں نوازشریف کے صاحبزادے کا اکاؤنٹ ہے، سوئٹرزلینڈ میں امجد نامی شخص سرگرم ہے، حکومت نے فیصلہ کیا کہ رقم واپس لیکر معیشت کو بہتر کیا جائے، یہ این آراو نہیں لوٹی رقم کی واپسی تصور ہوگا۔
سینئر صحافی نے نجی ٹی وی کے ساتھ تبصرے میں بتایا کہ وزیراعظم نے این آر اوسے انکار کیا ہے۔ اس کو این آر او نہیں کہتے، جب ایک شخص کے ذمے لوٹی ہوئی رقم ہے، اور وہ رقم حکومت پاکستان کے پاس آجاتی ہے، وہ این آر او نہیں بلکہ رقم کی وصولی ہوگی۔ این آراو وہ ہوتا ہے کہ آپ نے کچھ نہیں دیا اور ڈیل کرکے چلے گئے۔سعودی عرب میں ایک بینک الرازی بینک ہے۔
اس میں ایک اکاؤنٹ ہے۔اس بینک میں میاں نوازشریف کے بیٹے جو پچھلے دنوں عمرے کی ادائیگی کیلئے بھی گئے تھے ۔ سوئٹرزلینڈ میں امجد نامی شخص ہے، جن کا تعلق میاں برادران سے ہے۔جنیوا میں اس کا ریسٹورانٹ ہے۔مسلم لیگ ن سے اس کا تعلق ہے۔گزشتہ دنوں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کیوں نہ ان سے پیسا واپس لیکر پاکستان کی معیشت کو بہتر کیا جائے۔
اسی طرح ایک قطری اہم شخصیت ہے، قطری شخصیت نے بھی کہا کہ ہم رقم دے دیں گے، کل ہم پروگرام میں ان بینکوں کے اکاؤنٹ نمبر زبھی دیں گے۔ کہ ان اکاؤنٹ کو چیک کیا جائے کہ ان اکاؤنٹ میں کتنی رقم آئی اور کتنی گئی؟سینئر رپورٹررانا عظیم نے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے ایک رپورٹ پاکستان کے اہم ترین ادارے نے تیار کی ہے، ایف بی آر کے افسران خود لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ ایمنسٹی اسکیم میں حصہ نہ لیں، بعد میں آپ لوگوں کو تنگ کیا جائے گا ، بہت سارے ایسے لوگ جو وزیراعظم عمران خان کی ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا نا چاہتے ہیں ان کو کہا جارہا ہے کہ آپ کو بعد میں افسران تنگ کریں گے۔
جس کے باعث لوگ خوف میں مبتلا ہیں۔صرف ایف بی آر نہیں بلکہ تین مختلف ادارے ہیں جو لوگوں سے پوچھ گچھ کرسکتے ہیں، زیادہ خوف تاجرو ں میں پیدا کیا جا رہا ہے کہ جب حکومت ایکشن لینے لگے تو شٹرڈاؤن شروع ہوجائے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر حکومت ٹیکس دینے والوں کو یقین دہانی کروائے کہ آپ کو تنگ نہیں کیا جائے گا اس صورت میں لوگوں کا اعتماد بحال ہوگا۔
سینئر رپورٹررانا عظیم نے کہا کہ ایک ایف بی آرآفیسر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر 52لاکھ روپے ہم لوگوں میں تقسیم کررہے ہیں، پھر ہمیں لوگ ٹیکس کیوں دیں گے؟اگر لوگ سارا کچھ سامنے لے آئیں تو ادارے میں بہت سے لوگوں کی دیہاڑی بند ہوجائے گی۔اس لیے یہ لوگ کسی صورت نہیں چاہیں گے کہ اسکیم کامیاب ہو۔انہوں نے ایف بی آر اور دیگر اداروں کے افسران کے اپنے اتنے زیادہ بے نامی اثاثے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ اسکیم کامیاب ہو۔تاہم جب یہ رپورٹ وزیراعظم کو دی گئی تو وزیراعظم نے عوام کو سہولیات دینے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے نئی حکمت بنائی ہے کہ لوگوں کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp