میثاق معیشت اصولی طور پر بہت اچھی بات ہے، سیاسی طور پر اتار چڑھائو آتا ہے، یہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونا چاہیے،

, مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف

اسلام آباد ۔ : مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نیا مالیاتی ڈسپلن قائم کرنے سے پہلے اپوزیشن سے میثاق معیشت پر بات کی جانی چاہیے تھی‘ اپوزیشن کی طرف سے دی جانے والی بجٹ تجاویز کو بجٹ میں شامل کرکے بات چیت کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے جس کا منطقی انجام میثاق معیشت ہو سکتا ہے جبکہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ قائد حزب اختلاف کی تجویز پر انہوں نے وزیراعظم اور دیگر متعلقہ حکام سے بات کرکے میثاق معیشت کے حوالے سے کمیٹی کے قیام کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔
منگل کو قومی اسمبلی میں ذاتی وضاحت پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وزیر موصوف کے ساتھ جو ان کی جماعت نے کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ میثاق معیشت اصولی طور پر بہت اچھی بات ہے۔ سیاسی طور پر اتار چڑھائو آتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونا چاہیے۔ بنگلہ دیش میں یہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوا ہے۔ ہم اس وقت بجٹ پر بحث میں حصہ لے رہے ہیں اور اس بجٹ کو جو ہماری رائے میں عوام دوست نہیں ہے‘ ہم پہلے بجٹ پر اتفاق رائے کرلیں۔
ہماری اور حکومتوں کی تجاویز کو یکجا کیا جائے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ بات ہونی کہ یہ مذاق معیشت ہے۔ ایک نیا فنانشل ڈسپلن قائم کیا جارہا ہے۔ یہ پہلے ہونا چاہیے۔ ہم آج بھی اس پر کھڑے ہیں۔ نواز شریف نے دس سال پہلے کہا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بجٹ پر بات چیت کی راہ اپنائی جائے یہ ابتداء ہوگی۔ آگے چل کر میثاق معیشت بھی ہو سکتا ہے۔ سپیکر نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کی تجویز پر ہم نے وزیراعظم اور دیگر سے بات کی۔ ہمیں بعض معاملات کو قومی امور کے طور پر لینا چاہیے۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp