مجھے نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے

سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید ہونے والے پاکستانی کی بیوہ کا انکشاف

نیوزی لینڈ : : سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید ہونے والے پاکستانی شہری سید جہانداد کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مجھے نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بے بسی کی داستان سُناتے ہوئے کہا کہ میں‌اس وقت بہت پریشان ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں ۔ مجھے زبردستی نیوزی لینڈ چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ آمنہ علی نے بتایا کہ میرے کرب اور تکلیف کی وجہ سے میرے والد محترم اور بھائی نیوزی لینڈ آنا چاہ رہے ہیں وہ بھی اپنے وطن سے دور میری تکلیف کو برداشت نہیں کر پا رہے۔
آمنہ علی کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے تینوں بچوں کی فکر بہت ہی زیادہ ہے کیوںکہ اب ان کے والد اس دنیا میں نہیں رہے خاص کر میری پانچ سالہ بیٹی جو بول بھی نہیں سکتی اسے تو یہ بھی نہیں پتا کہ اس کے ابو گھر کیوں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ میں کافی دنوں سے نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت کے لیے دفاتر کے چکر لگارہی ہوں لیکن میں کئی دنوں سے قطار میں کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہوں اور کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔
ستمبر میں میرا وزٹ ویزہ ختم ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سانحہ کے وقت جب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے مجھے سے ملاقات کی اور خاندان سے اظہار افسوس کیا تھا اُس وقت انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے اور میرے بچوں کو نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت دیں گی لیکن آج تک اس پر بھی عمل نہیں‌ ہوسکا۔ میری دو سال کی بیٹی ہر روز شام 5 بچے اپنے ابو کا انتظار کرتی ہے کہ اس کے ابو گھر پہنچے والے ہیں لیکن اسے کیا پتہ کہ اس کے ابو ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی حکومت نے وعدے کے مطابق مجھے اور میرے بچوں کی شہریت نہ دی تو پھر میں اپنے بچوں سمیت وطن پاکستان لوٹ جاؤں گی۔ یاد رہے کہ رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انہتا پسند دہشتگرد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp