عمران خان کے 4 وزراء تمباکو کی فیکٹریوں کے مالک

ان وزیروں کو ٹیکس میں کیا رعایت دی جارہی ہے؟ معروف صحافی نے بتا دیا

اسلام آباد : : معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ 4 وزراء کی تمباکو کی فیکٹریاں ہیں۔دورانِ پروگرام گفتگو کرتے ہوئے رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ حکومت کے 4 وزیر ایسے ہیں جن کی تمباکو کی فیکٹریاں ہیں جن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان کو ٹیکس دینے میں رعایت دی گئی ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے ایک عام شخص کے لیے تو ٹیکس اور دیگر قانون سخت کر دئیے ہیں۔
لیکن زرا یہ بھی پتہ کروایا جائے کہ کے پی کے کون سے چار بڑے لوگ ہیں جن کی تمباکو کی فیکٹریاں ہیں۔جس طرح ایکسپورٹ پر جی ایس ٹی لگتا ہے جس سے ٹیکس واپس مل جاتا ہے اسی طرح اس معاملے میں بھی یہی عمل اپنانے کو کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو اس سسٹم میں نہیں آئیں گے۔کیونکہ اس سسٹم میں تمباکو کی مقدار پر ٹیکس لگنا تھا۔اس لیے یہ چاہتے تھے کہ کسی کو پتہ ہی نہ لگے کہ ہم کتنے ملین تمباکو پراسس کر رہے ہیں لہذا ہم اسے ڈاکیومنٹ نہیں ہونے دیں گے۔
ایک طرف وزیراعظم عمران خان لوگوں کو ٹیکس دینے کے بھاشن دے رہے ہیں لیکن انہیں اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرنے کی ضرورت ہے۔واضح رہے کہ حکومت نے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی ہے جس کے ذریعے شہری اپنے غیر ظاہر شدہ اثاثہ جات کو ڈکلئیرکر کے ٹیکس ادا کرنے کے بعد اپنے تمام اثاثوں کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں۔ حکومت نے اثاثہ جات ڈکلئیر کرنے کی آخری تاریخ 30جون رکھی ہے جس کے بعد غیرقانونی اثاثہ جات رکھنے والوں کے خلاف کارروائی شروع ہو جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ورنہ مشکل ہوگی،قوم ٹیکس چوری روکنے میں حکومت کا ساتھ دے، قوم کی مدد سے اگلے سال ساڑھے 5ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرناہے، اگر ہم تہیہ کرلیں توہر سال 8 ہزار ارب اکٹھا کرسکتے ہیں، جس سے تمام مشکلات حل ہوجائیں گی۔ انہوں نے قوم کیلئے اہم پیغام میں کہا کہ پچھلے 10سال میں پاکستان کا قرضہ 6ہزار ارب سے 30ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے۔
اس سے ہمیں نقصان ہوا کہ جتنا بھی ہم نے پچھلے سال ٹیکس اکٹھا کیا تھا ، ان میں آدھا ٹیکس ان قرضوں کی قسطوں پر سود ادا کرنے میں چلا گیا۔ ہم ان قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔اب مزید قرضے ہم پچھلے قرضو ں کی قسطیں اتارنے کیلئے لے رہے ہیں ۔ یہ قرضے کرپشن کی وجہ سے چڑھے۔ اس کی فکر نہ کریں،کرپشن والوں کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔ مسئلہ ٹیکس کی چوری ختم کرنے کیلئے مجھے عوام کی ضرورت ہے۔ لیکن اب شہریوں کو اثاثے ظاہر کرنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp