متحدہ عرب امارات میں پاکستانی آموں کی درآمد میں کمی ہو گئی

اس بار بھی پاکستانی آم دو ہفتوں کی تاخیر سے اماراتی مارکیٹ میں پہنچے ہیں

دُبئی : پاکستانی آم دُنیا بھر کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی بے حد مقبول ہے۔ اس بار امارات میں پاکستانی آم گزشتہ سال کے مقابلے میں کچھ ہفتوں کی تاخیر سے بالآخر پہنچ ہی گیا اور پہنچتے ساتھ ہی ہاتھوں ہاتھ بِک گیا۔ امارات میں پاکستانی آموں کی آمد میں تاخیر کی وجہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے پیداوار میں خاطر خواہ کمی تھی۔ سب سے پہلے پاکستان کے سِندھڑی اور الماس نامی آم دُبئی پہنچے۔
سندھڑی آم کو اُس کے عمدہ ذائقے، سنہری رنگت اور سائز کے باعث دُنیا بھر میں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ دُبئی میں مقیم آموں کے پاکستانی تاجر محمد افضل نے بتایا کہ اس بار پاکستان میں آموں کی فصل 10 سے 15 دِن کی تاخیر سے تیار ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے امارات کے لوگوں کو بھی اپنے من پسند پھل کے لیے کافی عرصہ انتظار کرنا پڑا۔ دُوسری جانب بھارت سے بھی آموں کی امارات میں آمد شروع ہو گئی ہے۔
امارات میں بھارت کے کیسر، راجا پُتری، دسہری، بادامی اور الفانسو آم بہت مقبول ہیں۔ بھارت اور پاکستان سے منگوائے گئے آم امارات میں آموں کی کُل مارکیٹ کا 70 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ کینیا، سُوڈان اور آسٹریلیا سے بھی آم منگوائے جاتے ہیں۔ پاکستان سے سندھڑی، دسہری، انور رٹول، چونسا اور کالا چونسا بھی امارات لائے جاتے ہیں۔ ہر سال پاکستان سے دُبئی کو آموں کی 25 لاکھ پیٹیاں برآمد کی جاتی ہیں۔
7سے 8 کلو کی یہ پیٹی ہول سیل مارکیٹ میں 25 سے 30 درہم تک میں فروخت ہوتی ہے۔ پاکستانی تاجر متحدہ عرب امارات میں آموں کی برآمد سے سالانہ 60 لاکھ ڈالر کماتے ہیں۔ واضح رہے کہ 2015ء کے بعد سے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کو آموں کی برآمد میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ اس کی وجہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے آموں کے لیے لکڑی کے کریٹس، بکسوں اور کیسز کے استعمال پر پابندی عائد کرنا ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 25 جون 2019

Share On Whatsapp