پہلی مرتبہ بھارت نے ایران کیخلاف امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بھارت بھی میدان میں کود پڑا، نیوی اور فضائیہ کو متحرک کر دیا

نئی دہلی : پہلی مرتبہ بھارت نے ایران کیخلاف امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا، امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بھارت بھی میدان میں کود پڑا، نیوی اور فضائیہ کو متحرک کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے پہلی مرتبہ اپنے دیرینہ دوست ملک ایران کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی خریدے کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد بھارت بھی اس بحران کا فریق بننے کیلئے میدان میں کود پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جہاں ایک جانب امریکا کی جانب سے ایران پر دباو بڑھانے کیلئے خلیج میں اپنے جنگی بحری جہاز کو تعینات کر دیا گیا ہے اور فوجی دستے بھیجے جا رہے ہیں، وہیں اب بھارت نے بھی اپنی بحریہ اور فضائیہ کو خلیج میں تعینات کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ خلیج میں بھارتی بحریہ اور فضائیہ کی تعیناتی کا مقصد بھارت کی سمندری آمد و رفت کی سیکورٹی یقینی بنانا ہے، تاہم بھارت کے عسکری حکام کا کہنا ہے کہ خلیج میں بھارتی بحریہ اور فضائیہ کی تعیناتی کا اصل مقصد ایران کیخلاف امریکا کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران امریکا اور بھارت کے درمیان تعلقات میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے، اور بھارت اس سلسلے کو جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ اس مقصد کیلئے بھارت اپنے دیرینہ دوست ایران سے دوری اختیار کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ بھارت نے امریکا کی خوشنودی کے حصول کیلئے ہی حال ہی میں پہلی مرتبہ ایران سے تیل کی خریداری بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل بھارت امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل کی خریداری ترک نہیں کرتا تھا۔ تاہم اب بھارت نے ایران سے تیل کی خریداری ترک کرکے امریکا، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے تیل کی خریداری کا آغاز کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کے یہ حالیہ اقدامات خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

تاریخ اشاعت : پیر 24 جون 2019

Share On Whatsapp