کتاکشا۔ ابوعلیحہ کی پہلی کاؤش

لالی وڈ کی پوری تاریخ میں اتنی ہی  ڈراؤنی فلمیں بنائی گئی ہیں جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ اگر معروف پاکستانی ڈراؤنی فلموں کی بات کی جائے تو صرف "زندہ لاش"، "سر کٹا انسان "اور "پری" جیسے نام ہی ذہن میں آتے ہیں۔ پاکستان میں ڈرا ؤنی فلمیں پسند کرنے والوں کی تعداد بھی قابل ذکر نہیں اور عموماً لوگ مزاحیہ اور رومانوی فلمیں پسند کرتے ہیں۔

ایسے میں  کتاکشا فلم پیش کرنے پر ابو علیحہ داد کے مستحق ہیں۔
ابو علیحہ کی ڈائریکشن میں تیار ہونے والی اس فلم کے تقریباً تمام ہی کردار نئے چہروں نے ادا کیے ہیں۔ البتہ مرکزی کردار کی صورت میں سلیم معراج موجود ہیں جن کی اداکاری کی تعریف سبھی کرتے ہیں۔ 


کتاکشا ابوعلیحہ کے ساتھ ساتھ محمد منیب (ایڈیٹر)، شیخ معین الدین (کلر گریڈنگ)، جنید محمود (سینماٹو گرافر) اور بلال اللہ دتہ / علی اللہ دتہ (بیگ گراؤنڈ میوزک) کی بھی پہلی فلم تھی۔

کتاکشا فلم نے فلم انڈسٹری کو ان پانچ ٹیکنیشنز کے ساتھ ساتھ نمرہ شاہد اور مبین گبول سمیت کئی بہترین اداکار بھی دئیے ہیں۔


آج کل جہاں فلموں کا بجٹ کروڑوں روپے ہوتا ہے، وہاں کتاکشا صرف 98 لاکھ میں مکمل ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم نے اپنی لاگت سے زیادہ پہلے ویک اینڈ پر ہی کما لیا ہے۔ فلم کے ریلیز ہونے کے ابتدائی تین دنوں میں اس کا بزنس ایک کروڑ سات لاکھ روپے رہا ہے۔



اس فلم کی کہانی چار لوگوں کے گرد گھومتی ہیں جو بالترتیب پروڈیوسر، ٹی وی رپورٹر، کیمرا مین اور ڈرائیور ہیں۔ یہ افراد کٹاس راج مندر میں شوٹنگ کے لیے جاتے ہیں جہاں انہیں مختلف خوفناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فلم کا نام سنسکرت زبان کا لفظ 'کتاک شا' ہے جس کے لغوی معنی ٰ "روتی ہوئی آنکھیں" یا "آبدیہ آنکھیں" ہیں۔ کٹاس راج مندر کا نام بھی اسے لفظ سے ماخوذ ہے۔

سلیم معراج جو اس  فلم میں ڈرائیور کا کردار ادا کررہے ہیں، نے اپنی جاندار اداکاری اور لاجواب تاثرات سے فلم بینوں کے دل جیتے ہیں۔ باقی کرداروں نے بھی فلم میں اپنے حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے۔

تاریخ اشاعت : پیر 24 جون 2019

Share On Whatsapp