ریاض: پاکستانی شہری کو قانونِ تجارت کی خلاف ورزی پر سزا ہو گئی

پاکستانی ملزم نے ایک سعودی شہری کے نام پر کمپیوٹر اور سٹیشنری کا کاروبار شروع کر رکھا تھا

ریاض : سعودی وزارت تجارت و سرمایہ کاری کی جانب سے ایک پاکستانی اور اس کے سعودی ساتھی کی تشہیر کرا دی گئی۔ ان دونوں افراد کو مقامی عدالت کی جانب سے غیر قانونی کاروبار کا مجرم ٹھہرا کر سزا بھی سُنائی گئی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ریاض کے رہائشی سعودی شہری نے پاکستانی تارکِ وطن کو اپنے نام سے کمپوٹر سپلائی اور دیگر اسٹیشنری مصنوعات کا کاروبار کروا رکھا تھا۔
عدالت میں ثابت ہو گیا کہ بظاہر تو یہ کاروبار سعودی کا تھا مگر اس کا اصل مالک ایک پاکستانی شہری تھا۔ اس غیر قانونی کاروبار کے بدلے پاکستانی شہری سعودی کو ہر ماہ ایک مخصوص رقم دیتا تھا۔ جس پر عدالت نے پاکستانی پر 4لاکھ سعودی ریال کا بھاری جرمانہ عائد کیا اور کاروبار کی بندش کے علاوہ پاکستانی ملزم کو سزا کی مُدت پُوری کرنے کے علاوہ ڈی پورٹ کرنے کا حکم بھی سُنایا۔
جبکہ سعودی شہری کا تجارتی اجازت نامہ منسوخ کر کے اُس کے آئندہ اس شعبے میں کاروبار کرنے پر پابندی لگا دی۔ اس کے علاوہ دونوں ملزمان کے خرچے پر اُن کی دو مقامی اخبارات میں تشہیر بھی کروانے کا حکم بھی سُنایا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کسی شخص کی جانب سے وزارت کو شکایت درج کرائی گئی کہ ایک کمپیوٹر کے کاروبار سے منسلک تاجر کے ملکیتی گودام میں پرنٹر کی جعلی سیاہی کی بھاری مقدار موجود ہے۔
جب وزارت کے انسپکٹرز نے وہاں چھاپہ مارا تو پتا چلا کہ اس کاروبار کا اصل مالک ایک پاکستانی ہے جو سعودی کی مدد سے یہ سب کر رہا ہے۔ جس پر ان کا کاروبار بند کر دیا گیا اور دونوں افراد کے خلاف تجارتی جعل سازی کا مقدمہ درج کیا گیا۔ واضح رہے کہ سجل تجاری کی خلاف ورزی کی اطلاع کرنے والے کو ملزمان پر عائد جرمانے کا 30 فیصد بطور انعام دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ ایسے معاملات کو رپورٹ کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں۔

تاریخ اشاعت : پیر 24 جون 2019

Share On Whatsapp