Researchers Drop 17,000 Wallets To Test Human Honesty — And Are Pleasantly Surprised By The Results

محققین نے انسانی ایمانداری کا پتا چلانے کے لیے 17 ہزار پرس گرا دئیے۔ حیرت انگیز نتائج

اگر آپ کو رقم سے بھرا ہوا پرس ملے تو آپ کیا کریں گے؟  اس ایک سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے انسانی برتاؤ کا مطالعہ کرنے والے محققین نے ”شہری ایمانداری“ (civic honesty) کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا۔
اس مہم کے لیے بڑے پیمانے پر تجربات کیے گئے۔ اس تحقیق کے دوران محقق سیاح بن کر مختلف عوامی مقامات جیسے بنکوںمیں  بزنس کارڈ، گروسری لسٹ اور رقم سے بھرے پرس گراتے اور لوگوں  کا برتاؤ دیکھتے۔

محققین بنکوں میں کیشئر کو جا کر پرس دیتے کہ انہیں یہ بنک سے ملا ہے یا  عوامی مقامات پر گرا کر چلتے بنتے۔
رپورٹ کے مطابق اس مہم میں 40 ملکوں کے 355 شہروں میں 17 ہزار پرس گرائے گئے۔ محققین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ  پرس میں جتنی زیادہ رقم ہواس کے واپس ملنے کے چانس اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں جاری رہنے والے اس پراجیکٹ کو پہلے چھوٹے پیمانے پر  فن لینڈ سے شروع کیا گیا۔
مہم کے دوران کینیا میں  ایک محقق کو مشکوک حرکات پر گرفتار بھی کیا گیا۔
محققین نے اس مہم میں بغیر رقم یا چھوٹی رقم جیسے 13 ڈالر  کے ساتھ بھی پرس گرائے اور بڑی رقم جیسے 100 ڈالر کے ساتھ بھی پرس گرائے۔
اس مہم کے نتائج کے مطابق 100 ڈالر  رقم کے ساتھ گرائے گئے پرس 72 فیصد رپورٹ ہوئے جبکہ 13 ڈالر کے ساتھ گرائے گئے پرس کے رپورٹ ہونے کی شرح 61 فیصد تھی۔ 46 فیصد ایسے پرس بھی رپورٹ ہوئے جن میں رقم ہی نہیں رکھی گئی تھی۔اس مہم میں زیادہ مالیت پر مشتمل پرس زیادہ رپورٹ ہوئے۔
اس مہم کے نتائج جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئے۔ اس مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایمانداری کا تعلق مالی فائدے سے نہیں  ہوتا  بلکہ اس کا انحصاراس پر ہوتا ہے کہ لوگ بے ایمانی کر کے کیسا محسوس کرتے ہیں۔

تاریخ اشاعت : اتوار 23 جون 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں