اہلیہ کا انتخاب آپ نے کیا یا گھر والوں نے؟ مولانا طارق جمیل سے سوال

مولویوں کو بلا کون پسند کا رشتہ دیتا ہے، مجھے کوئی بھی رشتہ دینے کو تیار نہ تھا،ساس نے بیان سننے کے بعد مجھے اپنی بیٹی دینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا طارق جمیل نے اپنی زندگی کا سب سے اہم واقعہ بتا دیا


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87
لاہور : معروف عالم دین مولانا طارق جمیل سے سوال کیا گیا کہ آپ اپنے خطابات میں اپنی اہلیہ کا ذکر اکثر کرتے ہیں۔یہ اہلیہ آپ کی پسند کی تھیں یا آپ کے گھر والوں نے پسند کیں۔جس پر مولانا طارق جمیل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مولویوں کو بلا کون پسند پر دیتا ہے۔مولانا طارق جمیل کا مزید کہنا تھا کہ میں نے 1971ء میں میڈیکل لائن چھوڑی تھی۔اس وقت ڈاکٹر کا بہت اچھا اور اہم تصور تھا جبکہ مولوی ایک گندگی کا کیڑا شمار ہوتا تھا۔
میرا ایک ایسے خاندان سے تعلق تھا جو پنجاب کے لوکل ذمہ دار تھے جو تکبر سے بھرے ہوتے تھے۔جب میں نے وہ راستہ چھوڑ کر علم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تو میرے والد نے مجھے گھر سے نکال دیا ۔23 نومبر 1972 کو میں ناشتہ کر رہا تھا تو میرے والد تشریف لائے انہوں نے دھوتی بندھی ہوئی تھی۔مجھے دیکھتے ہیں ان کا پارہ ہائی ہو گیا۔انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم نے مولوی بننا ہے تو میرے گھر سے نکل جاؤ۔
ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ میرے ہاتھ سے روٹی کا لقمہ گر گیا اور میں بستر اٹھا کر گھر سے نکل گیا۔مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ اس کے بعد میں رائیونڈ چلا گیا۔مولانا طارق جمیل کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خاندانوں میں شادی کے لئے خاندان کی پسند کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔لیکن مجھے کوئی بھی رشتہ دینے کو تیار نہیں تھا۔حالانکہ اللہ نے سب کچھ دیاہوا تھا پھر بھی لوگ کہتے تھے کہ مولوی ہے بھیک مانگ کر ہی کھائے گا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ میں نے بیان دیا تو مستورات میں عورتیں یہ باتیں کرنے لگی کہ مولانا صاحب کی شادی ہوئی ہے یا نہیں تو میری بہن نے کہا کہ اس کو تو کوئی اپنی بیٹی دیتا ہی نہیں۔تو وہیں پر میری سانس بیٹھی تھی انہوں نے کہا کہ ہم اس کو اپنی بیٹی دیں گے اور اس طرح میری شادی ہوئی۔مولانا طارق جمیل نے مزید کہا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئے۔

تاریخ اشاعت : منگل 18 جون 2019

Share On Whatsapp